بجٹ سے قبل ہی ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں نے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

دینہ: بجٹ سے قبل ہی ذخیرہ اندوزوں، گراں فروشوں نے اشیاء خوردونوش سمیت اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا۔ حقوق صارفین کا تحفظ کرنے کے لئے بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے۔ شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں زخیرہ اندوز،گراں فروش بے لگام، خود ساختہ مہنگائی کا وائرس شہر سمیت ضلع بھر میں سرائیت کرنے لگا۔
اشیاء خوردونوش سمیت سبزیاں، پھل فروٹ دکانوں سے غائب کرنے کی اطلاعات ، جبکہ اشیاء خوردونوش غریب افراد کی پہنچ سے کوسوں میل دور، دکاندار من مرضی کے نرخ وصول کرنے لگے، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فوٹو سیشن میں مصروف دیہاڑی دار،ریڑھی بان، تھڑے والوں کی شامت ،سوشل میڈیا پر کارکردگی آسمانوں کو چھونے لگی،شہریوں کو انتظامیہ نے گراں فروشوں کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا ۔
تفصیلات کے مطابق شہر سمیت ضلع بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس و انتظامیہ کی عدم دلچسپی و کمزور گرفت کے باعث بااثر دکانداروں نے ضلع بھر میں جنگل کا قانون نافذ کر رکھا ہے۔ اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں من مرضی کے نرخ مقررکرکے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے شروع کر رکھے ہیں۔
مشکل کی اس گھڑی میں منافع خوروں نے غریب سفید پوش طبقہ کے افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا معمول بنا لیا ہے۔بااثر کریانہ مرچنٹس مالکان نے آٹا، گھی، چینی سمیت دیگر ضروری اشیا کے من مرضی کے نرخ مقرر کر کے فروخت شروع کر رکھی ہے جبکہ اشیاء ضروریہ ارزاں نرخوں پر نہ ملنے کی وجہ سے شہری شدید اذیت کا شکار ہو چکے ہیں،عام آدمی شدید متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر سمیت ضلع بھر میں گراں فروشی کے مرتکب دکانداروں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ مہنگی اشیا فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروا کے پابند سلاسل کیا جائے، غریب، دیہاڑی دار، محنت کش افراد حکومت کے مقررہ کردہ نرخوں پر اشیا خوردونوش خرید کر اپنے بچوں کو 2 وقت کی روٹی مہیا کر سکیں۔



