نام بھی حیدر، کردار بھی حیدر

کہتے ہیں کچھ فرض ایسے ہوتے ہیں جو لباس سے نہیں، لہو سے ادا کیے جاتے ہیں۔ کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کی کتابوں میں نہیں، ہمارے آنسوؤں کی نمی میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کردار تھا "سپاہی حیدر” تھانہ چوٹالہ کا وہ جوان، جس نے وردی کو صرف طاقت نہیں، انسانیت کا ذریعہ سمجھا۔ نام ہی کافی تھا ، "حیدر” شیرِ خدا کا لقب، وہ جو دشمن کے سامنے جھکتا نہیں، لڑتا ہے، لڑ کر گرتا ہے مگر پیٹھ نہیں دکھاتا۔
جہلم کے طوفانی دن تھے۔ آسمان مسلسل برستا جا رہا تھا، ندی نالے بپھرے ہوئے سانپوں کی مانند گرجتے چلے جا رہے تھے۔ کہیں کوئی ماں اپنے بچے کے ساتھ پھنس گئی، کہیں کسی بزرگ کی زندگی سیلابی ریلے کی لپیٹ میں تھی اور ان لمحوں میں، ایک وردی پوش نوجوان، سپاہی حیدر، اپنی جان کی پروا کیے بغیر، دوسروں کو بچانے نکل کھڑا ہوا۔
یہ کوئی فلمی منظر نہیں تھا، یہ حقیقت تھی۔ وہ حقیقت جس نے سیداں والا جیسے چھوٹے سے گاؤں کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ حیدر علی جس کا سب کچھ اُس کی تین بہنیں تھیں۔ جن کی دنیا اپنے اکلوتے بھائی کے گرد گھومتی تھی۔ وہ بھائی جو ہر عید پر چوڑیاں لے کر آتا تھا، جو ہر دکھ میں کندھا بنتا تھا اور آج وہ کندھا خود مٹی تلے سو گیا۔
شہید حیدر کو سیلابی ریلے کی بے رحم موجیں نگل گئیں، مگر وہ موجیں اُس کی عظمت کو نہیں ڈوبا سکیں۔ دوسرے دن جب اُس کا جسدِ خاکی ملا، تو فضا میں صرف خاموشی نہیں تھی، فضا میں ایک بہن کی سسکی، ایک ماں کی آہ اور ایک قوم کی شرمندگی گونج رہی تھی کہ ہم اپنے اصل ہیرو کو کب پہچانتے ہیں؟
ڈی پی او جہلم کا کہنا تھا کہ حیدر کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ مگر کیا ہم واقعی یاد رکھیں گے؟ یا یہ بھی کسی کاغذ کی فائل میں دفن ہو جائے گا؟ کیا اس بہادر نوجوان کو وہ مقام ملے گا جس کا وہ حقدار تھا؟ کیا اس کی بہنیں زندگی بھر فقط تصویریں سینے سے لگا کر جئیں گی؟
یہ تحریر صرف ایک خراجِ تحسین نہیں، ایک سوال ہے کہ کیا ہم ایسے بیٹوں کی قربانی کے بعد بھی سچائی، فرض اور انسانیت کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟
حیدر چلا گیا، مگر جاتے جاتے ہمیں یہ سکھا گیا کہ فرض، صرف دفتر کی کرسی پر نہیں، پانی کی بے رحم موجوں کے سامنے کھڑے ہو کر ادا کیا جاتا ہے اور شاید اسی کو شہادت کہتے ہیں۔



