جہلم میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ، مسافر من مانے کرائے دینے پر مجبور

جہلم: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو جواز بنا کر جہلم سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مبینہ من مانے اضافے کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کرنے لگا۔

جہلم جنرل بس اسٹینڈ سے مختلف روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان اور عملے کی جانب سے مبینہ طور پر اپنی مرضی کے کرائے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ بیشتر گاڑیوں میں سرکاری کرایہ نامہ آویزاں نہ ہونے کے باعث مسافر مشکلات کا شکار ہیں۔

مسافروں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوتے ہی ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، تاہم قیمتوں میں کمی کی صورت میں کرایوں میں اسی تناسب سے کمی نہیں کی جاتی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث روزانہ سفر کرنے والے افراد کے ماہانہ سفری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

مسافروں کے مطابق بیشتر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سرکاری کرایہ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں نہیں کیا جاتا، جس کے باعث مسافر مقررہ کرائے سے آگاہ نہیں ہو پاتے اور انہیں کنڈیکٹرز کی جانب سے بتائے گئے کرائے ادا کرنا پڑتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری کرایہ نامہ طلب کرنے یا زائد رقم ادا کرنے سے انکار کی صورت میں بعض اوقات مسافروں اور کنڈیکٹرز کے درمیان تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں، جس سے سفر کے دوران ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

مسافروں کے مطابق روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے ملازمت پیشہ افراد، طلبہ، مزدور اور کم آمدنی والے شہری اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرایوں کی نگرانی اور زائد وصولی کی روک تھام کے لیے سیکرٹری آر ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائیاں دکھائی نہیں دے رہیں۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مختلف روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے، گاڑیوں میں سرکاری کرایہ نامے آویزاں کرائے جائیں اور مقررہ کرائے سے زائد وصولی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Exit mobile version