چوری شدہ بجلی کے ٹرانسفارمرز کے خالی کور کو سکریپ کے طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے، عوامی حلقے

پڑی درویزہ: آئے روز بجلی کے ٹرانسفارمرز چوری ہونے کی وارداتیں رونما ہو تی ہیں ، چور اپنی ضرورت کی قیمتی اشیاء ٹرانسفارمر کے اندر سے نکال کرٹرانسفارمر کا خالی کھوکھا اور دیگر نٹ بولٹ جائے وقوعہ پر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

محکمہ واپڈا دیگیر ضروری کاروائی کے بعد نیا ٹرانسفارمر نصب کر دیتا ہے لیکن جائے وقوعہ پر موجود ٹرانسفارمر کا خالی کھوکھہ وہیں پڑا رہتا ہے اور ضائع ہو جاتا ہے ۔

تحصیل سوہاوہ اور گردو نواح سے بجلی صارفین اور دیگر معزز عوامی سماجی حلقوں نے واپڈا حکام کو متوجہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ دوران سال جتنے ٹرانسفارمر چوری ہوتے ہیں سب کے خالی کھوکھوں کو اکٹھا کر سکریپ کی شکل میں فروخت کر کے قومی آمدنی کی شامل کیا جا سکتا ہے ۔ دیگر سرکاری اداروں میں یہ مشق کامیابی سے جاری ہے ۔

عوامی حلقوں کے مطابق ہر ٹرانسفارمر کی چوری کے ساتھ ہی واپڈا سب ڈویژنل حکام کو کھوکھہ اور دیگر سامان اپنے قبضے میں کر لینا چاہیے اور اختتام سال سارا سامان سکریپ کی شکل میں نیلام کر کے محکمہ کی آمدنی میں شامل کر لیا جانا چاہیے تا کہ اس طرح یہ چوری شدہ ٹرانسفارمر ز کے خالی کھوکھا جات اور دیگر ضائع ، نا قابل استعمال سامان مثلاً پرانے گر جانے والے یا تبدیل ہونے والے بجلی کے پول وغیرہ کو بطور سکریپ کو نیلام کیا جائے تا کہ محکمہ واپڈا اور قوم آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔

Exit mobile version