جہلم: جہلم کا سلاٹر ہاؤس گندگی کی آماجگاہ بن گیا، نیا ٹھیکیدار نئی ٹیم نے مذبح خانے کی حالت بگاڑ کر رکھ دی۔ جگہ جگہ گندگی اور غلاظت کے ڈھیر، سلاٹر ہاؤس دو ماہ سے بجلی اور پانی سے محروم ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کا واحد سلاٹر ہاؤس انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہوگیا، نئے ٹھیکیدار کی نئی ٹیم نے سلاٹر ہاؤس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ مذبح خانے میں پانی کی موٹر عرصہ سے خراب ہے، بجلی کا میٹر بھی جل چکا ہے۔ اگرچہ ڈیمانڈ نوٹس جمع کروایا گیا تھا، لیکن ابھی تک نیا میٹر نصب نہیں کیا گیا اور پانی کی فراہمی کے لیے کوئی متبادل انتظام نہیں کیا گیا۔ قصابوں نے پانی کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مذبح خانے میں صفائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے، جانوروں کا گوبر مرکزی ہال میں ہر جگہ بکھرا ہوا ہے اور اس کی صفائی کے لیے میونسپل کارپوریشن (ایم سی) کی کوئی ٹرالی موجود نہیں تھی۔ ذبح کیے گئے جانوروں کے باقیات، جن میں کھالیں بھی شامل ہیں، بے احتیاطی سے مذبح خانے میں بکھری ہوئی ہیں۔
آوارہ کتے، بلیاں اور پرندے آزادانہ طور پر مذبح خانے میں گھومتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ مذبح خانے کی عمارت خستہ حال ہے۔ عمارت کی خراب حالت کے باعث ویٹرنری ڈاکٹر، ٹھیکیدار شیخ فیصل اور چوکیدار کھلی جگہ میں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ مذبح خانے کی مجموعی حالت انتہائی خراب پائی ہے اور بڑے واٹر پمپ بھی خراب ہیں۔
قصابوں کے لیے کوئی منظم وقت نامہ نہیں ہے اور وہ ذبح کرنے کا عمل صبح 10 بجے تک جاری رکھتے ہیں۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ کئی قصاب اپنے گھروں میں جانوروں کو ذبح کر رہے ہیں بغیر کسی مہر کے، جس سے مارکیٹ میں فروخت ہونے والے گوشت کی کوالٹی اور حفاظت کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
