جہلم میں شاپر ضبط کر کے دوبارہ فروخت کرنے کا انکشاف

جہلم: ضلع جہلم میں پلاسٹک بیگ (شاپر) پر پابندی کے نام پر محکمہ ماحولیات کے کرپٹ ملازمین نے غیر قانونی طریقوں سے کروڑوں روپے کے شاپر ضبط کر لیے جبکہ شاپر بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔
اس کے بجائے غریب دکانداروں اور ریڑھی بانوں سے مبینہ طور پر رشوت وصول کی جانے لگی ہے۔ اس تمام صورتحال میں شاپر ضبط کرنے کے باوجود قانونی کارروائیاں صفر ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ محکمہ کے ملازمین کی جانب سے ضبط شدہ شاپر بیگ کو دوبارہ فروخت کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
شہری تنظیموں نے اس معاملے کا سخت نوٹس لینے اور محکمہ ماحولیات کے کرپٹ ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی دکانداروں اور ریڑھی بانوں کے مطابق ان سے شاپر ضبط کرنے کے بعد انہیں مختلف بہانوں سے رقم وصول کی جاتی ہے اور قانونی کارروائیاں کی بجائے ضبط شدہ شاپر بیگ دوبارہ بیچے جاتے ہیں۔
حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عوامی مفاد میں اس بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا سکے۔



