اسلام نے عورت کو مکمل حقوق اور تحفظ دیا، ریاست ان کے نفاذ کی ذمہ دار ہے، سید خلیل حسین کاظمی

جہلم: سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی آمد سے قبل دورِ جاہلیت میں عورت کو غلاموں سے بھی کمتر حیثیت حاصل تھی اور اس کا بدترین استحصال کیا جاتا تھا۔ یہ قرآن و سنت کی تعلیمات کی بنیاد پر قائم کی گئی اسلامی ریاست ہی تھی، جس میں نبی اکرم ﷺ نے عورتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے اُن کے جائز حقوق کی نہ صرف ضمانت دی بلکہ انہیں عملی طور پر نافذ بھی کیا۔
مرکزی سنی علماء کونسل کے قانونی معاون اور معروف سماجی شخصیت سید خلیل حسین کاظمی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسلام نے عورت کو نہ صرف حقِ ملکیت دیا بلکہ اپنی ملکیت میں موجود مال پر تصرف کا پورا اختیار بھی دیا۔ نیز مہر کو عورت کا حق قرار دیا جس کا ادا کرنا شوہر پر فرض ہے۔ قرآنِ پاک نے وراثت میں عورتوں کا حصہ مقرر فرما کر اسے "حدود اللہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ گویا ایک حقیقی اسلامی ریاست کا فرض ہے کہ عورت کے اس حق کے حصول کو یقینی بنائے اور اس کی ادائیگی میں پس و پیش سے کام لینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا طریقہ کار وضع کرے۔ اسلام ہی نے عورت کو یہ حق بھی دیا ہے کہ نکاح سے پہلے اُس کی کفالت کی مکمل ذمہ داری اُس کے والد یا بھائی پر اور نکاح کے بعد اس کے شوہر پر عائد ہوتی ہے۔
سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ کفیل نہ ہونے کی صورت میں ریاست کو اُس کی مکمل کفالت، یعنی روٹی، کپڑے، رہائش، تعلیم اور علاج معالجہ کا بندوبست کرنے کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔



