جہلم: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث ڈاک اور کورئیر سروسز کے آپریٹنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں نجی کورئیر کمپنیوں کی جانب سے ترسیلی نرخوں میں غیر معمولی اضافے کی اطلاعات ہیں۔ کورئیر سروسز کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 40 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ سرکاری ڈاک کی ترسیل کا نظام بھی بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات سے متاثر ہونے لگا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 100 روپے فی لیٹر تک اضافے نے ڈاک اور پارسلز کی ترسیلی لاگت کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ نجی کورئیر کمپنیوں کی جانب سے چھوٹے اور بڑے پارسلز کی ترسیل کے بنیادی نرخوں میں 25 فیصد تک اضافہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اسی روز پارسل پہنچانے والی سروسز کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں، کیونکہ ان خدمات میں دیگر ترسیلی سہولیات کے مقابلے میں ایندھن کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کورئیر کمپنیوں کے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر صارفین کو فراہم کی جانے والی ترسیلی خدمات کے نرخوں پر پڑ رہا ہے۔ کمپنیوں کو گاڑیوں کے ایندھن، ڈرائیورز اور دیگر ترسیلی اخراجات میں اضافے کا سامنا ہے، جس کے باعث پارسلز اور ڈاک کی ترسیل مہنگی ہونے لگی ہے۔
دوسری جانب ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے محکمہ ڈاک کے بجٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاک خانوں میں تعینات پوسٹ مینوں نے موجودہ فیول الاؤنس میں روزانہ کی بنیاد پر ڈاک تقسیم کرنے میں مشکلات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے ماہانہ فیول الاؤنس میں 80 فیصد تک اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جی پی اوز کی انتظامیہ ڈاک کی ترسیلی سروس کے اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیلیوری وینز کے روٹس محدود کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو رہی ہے۔ ایندھن کے اخراجات میں اضافے کے باعث بعض دور دراز علاقوں میں ڈاک اور پارسلز کی ترسیل کی فریکوئنسی بھی کم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق دیہی علاقوں کے ڈاک خانوں میں ون ڈے ڈاک سروس بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ دور دراز دیہی علاقوں میں میل اور پارسل پہنچانے کی فریکوئنسی کم ہونے سے شہریوں کو ڈاک کی بروقت ترسیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے اندر عام رجسٹرڈ پارسل بھیجنے کے موجودہ نرخ وزن کے حساب سے مقرر ہیں، جن کے مطابق 10 سے 15 کلوگرام تک پارسل کا نرخ 750 روپے، 15 سے 20 کلوگرام تک 940 روپے جبکہ 20 سے 25 کلوگرام تک پارسل کا نرخ 1,130 روپے مقرر ہے۔ ذرائع کے مطابق ان نرخوں میں بھی 25 فیصد تک اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کے باعث محکمہ ڈاک کے ہیڈکوارٹر کی جانب سے اس معاملے پر ایک سمری وزارتِ پوسٹل سروسز کے حکام کو ارسال کی جا چکی ہے، جس میں ترسیلی اخراجات اور فیول الاؤنس سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ فیصلے کے بعد ڈاک کی ترسیلی خدمات کے نرخوں اور فیول الاؤنس سے متعلق مزید صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔
