شہباز ہنجرا ۔۔ اصل ہیرو، فیصلے وہ جو تاریخ بن گئے

13
میں اور میرا دوست مرزا قدیر بیگ ان کے دفتر میں گئے۔ خوش دلی اور پُرجوش انداز میں ملے، مسکراتے چہرے، نرم لہجہ اور سائلین کے لیے دروازے کھلے ہوئے۔ موسم کی مناسبت سے میں نے ہی قہوہ کا آرڈر دیا۔ کافی گپ شپ ہوئی۔ قرآن پاک کا بہترین نسخہ منگوایا، اپنے لیے، اور بڑے پیار سے مجھے دکھایا اور کہا کہ قدرت اللہ کمپنی کا اسپیشل قرآن پاک بنوایا ہے۔ وہ سائلین کے مسائل ساتھ ساتھ سننے لگے۔
اسی لمحے ان کے وہ کارنامے میرے ذہن میں آنے لگے جنہوں نے انہیں ایک عام پولیس افسر نہیں بلکہ ایک اصلی ہیرو بنا دیا ہے۔ ڈی ایس پی صدر شہباز ہنجرا اُن پولیس افسران میں شامل ہیں جو وردی کو طاقت نہیں بلکہ امانت سمجھتے ہیں۔ جس جس ضلع میں انہوں نے خدمات سرانجام دیں، وہاں ان کے بولڈ اور بے لاگ فیصلوں نے انہیں اکثر تنازعات کا سامنا بھی کروایا، مگر انہوں نے کبھی دباؤ کو اصولوں پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ متنازعہ ضرور رہے، مگر کمزور نہیں—اور یہی کسی اصلی ہیرو کی پہچان ہوتی ہے۔
وزیرآباد جیسے بڑے اور حساس شہر میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان پر ہونے والے حملے جیسے ہائی پروفائل کیس میں ملزم کو بروقت گرفتار کر کے تھانے منتقل کرنا غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظہر تھا۔ اس کیس میں شہباز ہنجرا صاحب کی حکمتِ عملی، حاضر دماغی اور بروقت فیصلوں کے باعث نہ صرف تفتیش درست سمت میں گئی بلکہ کیس میں نمایاں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔
اسی طرح ساحل نقاش اغوا کیس، جو ملکی سطح پر ایک پیچیدہ اور سنسنی خیز مقدمہ بن چکا تھا، اس کی کامیاب تفتیش نے انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی متعارف کروایا۔ جب یہ کیس حل ہوا تو برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے انگلینڈ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں شہباز ہنجرا صاحب کی غیر معمولی صلاحیتوں، تفتیشی مہارت اور پیشہ ورانہ بصیرت کو سراہا گیا اور ان پر انعامات و اعزازات کی بارش کی گئی۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذات بلکہ پاکستانی پولیس کے لیے بھی باعثِ فخر تھا۔
پانچ قتل جیسے سنگین مقدمات میں بھی انہوں نے وقت کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کیے۔ لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال میں درست حکمتِ عملی اپنانا ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ وہ افسر ہیں جو فائلوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے خود میدان میں اتر کر فیصلے کرتے ہیں۔
ڈی ایس پی شہباز ہنجرا ایک باصلاحیت پولیس افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پرہیزگار، انصاف پسند اور عوام دوست انسان بھی ہیں۔ ان کے دفتر میں آنے والا ہر سائل اس بات کا گواہ ہے کہ یہاں بات سنی بھی جاتی ہے اور انصاف بھی ملتا ہے۔ سائلین سے خوش اخلاقی اور وقار کے ساتھ پیش آنا ان کی روزمرہ کارکردگی کا حصہ ہے۔
ایسے افسر کم ہی ہوتے ہیں جو نظام کے اندر رہ کر نظام کی اصلاح بھی کریں۔ شہباز ہنجرا صاحب نے یہ ثابت کیا ہے کہ اصولوں پر ڈٹ جانا وقتی مشکلات ضرور لاتا ہے، مگر تاریخ میں یاد وہی رکھے جاتے ہیں جو حق کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
بلاشبہ، ڈی ایس پی صدر شہباز ہنجرا اس نظام کے اصلی ہیرو ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید استقامت، صحت اور کامیابیاں عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جرأت اور دیانت کے ساتھ عوام کی خدمت کرتے رہیں۔ آمین
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



