وہ یورپی ممالک جو ابھی تک گولڈن ویزا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں

یورپی یونین کے کئی رکن ممالک گولڈن ویزا پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کے عوض غیرملکیوں کو شہریت دیتے ہیں۔
اگرچہ حالیہ سالوں میں یورپی یونین کی طرف سے اپنے رکن ممالک پر گولڈن ویزا پروگرامز ختم کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاہم اب بھی کئی یورپی ملک اس پروگرام کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، چنانچہ پاکستانی شہری بھی ان ممالک میں سرمایہ کاری کے ذریعے گولڈن ویزا حاصل کر سکتے ہیں اوران ممالک میں مستقل رہائش پا سکتے ہیں۔
نیوز ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق جو یورپی ممالک اب بھی گولڈن ویزا پروگرامز برقرار رکھے ہوئے ہیں ان میں ہنگری، یونان، سپین، اٹلی اور پرتگال شامل ہیں۔
ہنگری میں اس پروگرام کو ’گیسٹ انویسٹر پروگرام‘(جی آئی پی)کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت کوئی بھی غیرملکی رئیل سٹیٹ میں اڑھائی لاکھ یورو (تقریباً 7کروڑ 63لاکھ روپے) اور رہائشی جائیداد میں 5لاکھ یورو(تقریباً15کروڑ 26لاکھ روپے) کی سرمایہ کاری کرکے ہنگری کی شہریت حاصل کر سکتا ہے۔
سرمایہ کاری کے علاوہ اگرکوئی شخص ہنگری کے کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کو 10لاکھ یورو عطیہ کر دے تو اسے بھی ہنگری کی شہریت مل سکتی ہے۔یونان میں اڑھائی لاکھ سے 8لاکھ یورو، سپین میں پانچ لاکھ یورو، اٹلی میں حکومتی بانڈز میں 20لاکھ یورو، کارپوریٹ بانڈز یا شیئرز میں 5لاکھ یورو اور کاروبار میں اڑھائی لاکھ یورو کی سرمایہ کاری کرنے سے ان ممالک کے گولڈن ویزے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پرتگال جانے کے خواہش مند لوگ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹس، عطیات، ثقافتی ورثے اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرکے گولڈن ویزا پا سکتے ہیں۔



