دینہ میں سابق پولیس کانسٹیبل نعیم اصغر کے قتل کا معمہ حل، مرکزی ملزم اور اجرتی قاتلوں سمیت 5 ملزمان گرفتار

دینہ میں منگلا بائی پاس پھاٹک پر سابق پولیس کانسٹیبل نعیم اصغر برگٹ کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم اور اجرتی قاتلوں سمیت پانچ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال27 دسمبر کو جہلم کی تحصیل دینہ کے علاقہ دھنیالہ کے رہائشی سابق کانسٹیبل نعیم اصغر برگٹ کو دو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ مقتول شادی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے جب منگلا بائی پاس پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے رکنے پر حملہ آوروں نے انہیں نشانہ بنایا۔ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے تھے۔
ڈی پی او جہلم کی ہدایت پر ایس ایچ او دینہ احسان عباس اور ان کی ٹیم نے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے قتل میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت نثار حسن برگٹ، یاسر علی، ذوالقرنین عرف زونی، کبیر عرف امانت اور قدیر عرف سائیں کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق کیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مقتول کا کزن اور ہم زلف نثار حسن برگٹ مرکزی ملزم ہے جس نے کبیر اور قدیر نامی شوٹرز کو نعیم اصغر کو قتل کرنے کے لیے ہائر کیا تھا۔ ملزمان یاسر اور ذوالقرنین نے اعانت اور سہولت فراہم کی۔ پولیس نے ملزم قدیر کے قبضے سے آلہ قتل 30 بور پستول بمعہ ایمونیشن بھی برآمد کر لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نثار حسن برگٹ نے محض حسد اور پراپرٹی کی بنا پر نعیم اصغر کو قتل کروایا۔مرکزی ملزم نثار حسن برگٹ کی گوجر خان کے رہائشی اجرتی قاتلوں سے سابق پولیس کانسٹیبل کو قتل کروانے کی 24 لاکھ روپے میں ڈیل ہوئی۔ نعیم اصغر کو قتل کرنے سے پہلے اجرتی قاتلوں نے 14لاکھ روپے وصول کر لیے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پانچوں ملزمان کی شناخت پریڈ کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور عدالت سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف پراسیکیوشن کی ہدایات کے مطابق ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان تیار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔



