جہلم میں 30 سال بعد بھی سوئی گیس کا مرکزی دفتر قائم نہ ہو سکا، شہری شدید مشکلات کا شکار

جہلم میں سوئی گیس کی سہولت فراہم ہوئے تین دہائیاں گزر گئیں، لیکن محکمہ سوئی نادرن گیس پائپ لائنز تاحال اپنا مستقل دفتر تعمیر نہ کر سکا۔

شہریوں کو بل درستگی اور شکایات کے اندراج کے لیے آج بھی دور دراز علاقے کالا گجراں جانا پڑتا ہے، جو صارفین کے لیے شدید اذیت اور زیادتی کے مترادف ہے۔

صارفین نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ دور میں بھی بنیادی سہولیات کے لیے سفر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکومتیں عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی دعویدار ہیں، مگر محکمہ سوئی گیس شہریوں کی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ کر رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ کالا گجراں میں کرائے کی عمارت میں دفتر قائم کر کے، محکمہ نے سہولت کے بجائے زحمت پیدا کر دی ہے۔ بل درستگی، کنکشن مسائل اور دیگر شکایات کے حل کے لیے دور جانا پڑتا ہے، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔

صارفین نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم شہر کے اندر باقاعدہ محکمہ سوئی گیس کا دفتر قائم کیا جائے، تاکہ شہریوں کو ان کے گھر کے قریب سہولیات میسر آ سکیں اور ان کی مشکلات میں کمی ہو۔

Exit mobile version