پنڈدادنخان: معروف شاعرہ ماہنازبنجمن کے پہلے شعری مجموعے "خامشی ہمکلام ہوتی ہے” کی تقریبِ پذیرائی ادبی، ثقافتی و سماجی تنظیم ” اشارہ انٹرنیشنل” کے زیرِاہتمام اکادمی ادبیات اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کی صدارت عہد ساز شخصیت اور معروف شاعر افتخار عارف نے انجام دی۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عادل امین جب کہ مہمانِ اعزاز ڈاکٹر جنیدآزر تھے۔ تقریب کی نظامت معروف شاعر شہباز چوہان نے کی ۔ تقریب میں ادب سے وابستہ لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔ اشارہ انٹرنیشنل کی جانب سے ماہناز بنجمن ، محبوب ظفر،ڈاکٹر عادل امین، ڈاکٹر جنیدآزر، اور افتخار عارف کو پھولوں کے گلدستے پیش کیےگئے۔
تقریب کے آغاز میں ریورنڈ نوبل جان نے دُعا کی۔اس کے بعد خوبصورت لہجہ کی شاعرہ حنیہ غزل نےماہناز بنجمن کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا۔
معروف شاعر خالد عمانوایل ،ڈاکٹر جنید آزر اور رانا سعیددوشی نے کتاب کے حوالےسے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ماہناز کی محنت ،لگن اور شاعری کو خوب سراہا ماہناز نے سب حاضرین کی محبت وعقیدت کا منظوم شکریہ ادا کیا ۔مضامین پڑھنے والے اساتذہ کانام بنام شکریہ ادا کیا اور اپنے کلام کی بدولت خوب داد سمیٹی۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عادل امین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ ایک عرصے سےکتابوں کی حروف چینی کر رہے ہیں مگر ماہناز کی شاعری میں انہیں بہت پختگی نظر آئی اور اس کتاب کی پروف ریڈنگ میں انہیں زیادہ وقت دینا نہیں پڑا۔ماہرِ عروض ہونے کے ناطےانہوں نے کہاکہ اس کتاب کو کہیں سے بھی پڑھ کر دیکھیے شعریت سے بھرپور ہے حتٰی کہ کتاب کے ٹائٹل سے ہی شاعری شروع ہو جاتی ہے،اس کتاب اور خوبصورت تقریب کے لیے یقینی طور پر وہ مبارکباد کی حقدار ہیں۔
آخر میں تقریب کے صدر افتخار عارف نے نہایت منفرد اور سادہ انداذ میں کہا کہ میں ماہناز سے ذاتی طور پر واقف نہیں تھا میں نے انہیں کتاب میں ہی دیکھا ہےکتاب پڑھ کر مجھے ماہناز کے اسلوب کی سچائی اور عمدہ شاعری کا اِدراک ہوا۔ان کی شاعری نے انہیں ادب میں خوبصورت مقام عطا کیا ہے کیونکہ کتاب اپنی شاعری کا اعلان ہوتا ہے اور یہ ذمہ داری کا کام ہے اور خاتون ہونے کے ناطے آپ نے اس کام کو بڑی عمدگی سے انجام دیا ۔یہ کتاب ادب میں خوبصورت اضافہ ہےاس کے بعد مارون گروپ کے CEO شارون عارف کی جانب سے کتاب کے ٹائٹل پر مبنی کیک کاٹا گیا اورماہناز کے والدِ محترم کوبھی مبارکباد پیش کی گئی۔ دیگر احباب نے ماہناز کو پھول اور تحائف پیش کیے۔
تقریب میں معروف شعراءجن میں عبدالقادر تاباں, رفعت وحید, زبیر قیصر ، ڈاکٹر کاشف عرفان، شاہین برلاس، ایڈوکیٹ شائستہ چوہدری، مظہر شہزاد اور کتاب کے پبلشر طاہر بلوچ سمیت مشہور سماجی کارکن شکیل منصور اور صلاح الدین چوہدری بھی شامل تھے ۔
