جہلم: بجلی، پٹرول کے بعد اب سوئی گیس کے بھاری بھرکم بلوں نے ماہ رمضان میں صارفین کے میٹر شاٹ کر دیے، صارفین سراپا احتجاج ہیں۔
سوئی گیس کے صارفین نے کہا ہے کہ رواں ماہ محکمہ سوئی گیس نے ہزاروں روپے کے بل بھجوادیئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ سوئی گیس نے اپنے صارفین کا خون نچوڑنا شروع کررکھا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اقتدار میں آنے سے قبل سبز باغ دکھائے اور بلند و بانگ دعوے کئے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بجلی کے 3 سو یونٹ فری دینے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کرنے کے اعلانات کئے حکمرانوں کی شاہانہ شاہ خرچیوں کیوجہ سے خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑرہاہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلیوں ، قومی اسمبلی اور سینٹ میں سینکڑوں افراد کو اربوں روپے تنخواہ کی مد میں ادا کئے جاتے ہیں اور بجلی سوئی گیس پٹرول ملازمین سمیت دیگر مراعات غریب طبقہ کا خون چوسنے کے مترادف ہے۔
صارفین نے چیف جسٹس آف پاکستان چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیاہے کہ جب تک ملک آئی ایم ایف کا مکروز ہے تمام پارلیمنٹرین کی مراعات ختم کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں، تمام سرکاری محکموں کی گاڑیاں دفاتر میں ڈیوٹی کے بعد پابند کی جائیں۔ سرکاری دفاتر میں ایئر کنڈیشن ، ہیٹر لگانے پر سخت پابندی عائد کی جائے، سرکاری گاڑیوں کا پٹرول مختص کیا جائے اور ہزار سی سی سے کم گاڑیاں افسران اور وزراء کو دی جائے تاکہ ملک پر قرضوں کا بوجھ ختم ہوعوام کو خوشحالی نصیب ہوسکے۔
