جہلم: انجمن آرائیاں ضلع جہلم کے صدر حاجی حبیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ آرائیں برادری کے اتحاد، وقار اور فلاح و بہبود کا فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ باہمی احترام، مثبت سوچ اور خدمت کے جذبے سے ہی برادری کو مزید مضبوط اور منظم بنایا جا سکتا ہے۔ برادری کی اجتماعی بہتری، اتحاد اور عزت و وقار کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے اور اس مقصد کے لیے مخلص اور سنجیدہ افراد کے ساتھ مل کر آگے بڑھا جائے گا۔
حاجی حبیب الرحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ آرائیں برادری کی فلاح و بہبود، عزت و وقار اور اتحاد کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ برادری کی خدمت کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی اور ان کے مثبت کردار کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ کسی بھی معاملے میں رائے قائم کرنے سے قبل حقائق اور شواہد کو سامنے رکھنا چاہیے تاکہ باہمی اعتماد اور اتحاد کی فضا برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ میاں مطیع الرحمٰن ارائیں، چیئرمین آرائیں کمیونٹی پاکستان، کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ برادری کی بہتری اور فلاح کے لیے جو شخص عملی کردار ادا کرے گا، اس کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترجیح کسی فرد یا گروہ کی مخالفت نہیں بلکہ آرائیں برادری کے اجتماعی مفاد، اتحاد اور وقار کا تحفظ ہے۔
صدر انجمن آرائیاں ڈسٹرکٹ جہلم نے مرکزی صدر انجمن آرائیاں پاکستان میاں سعید ڈیرے والے اور مرکزی جنرل سیکرٹری انجمن آرائیاں پاکستان میاں خالد حبیب الٰہی سے مطالبہ کیا کہ برادری سے متعلق اختلافات اور شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ اگر کسی معاملے میں کوئی شکایت یا الزام موجود ہے تو اسے مناسب شواہد کے ساتھ تنظیمی فورم پر پیش کیا جائے تاکہ معاملات افہام و تفہیم اور آئینی و تنظیمی طریقہ کار کے مطابق حل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا یا غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے کسی کی عزتِ نفس مجروح کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر تنظیم اور معاشرے کا حصہ ہے، تاہم اسے باہمی احترام، دلیل اور مثبت انداز میں حل کرنا ہی برادری کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
حاجی حبیب الرحمٰن نے کہا کہ آرائیں برادری کسی فرد، گروہ یا مفاد پرست عناصر کی جاگیر نہیں بلکہ سب کی مشترکہ برادری ہے، اس لیے تمام معاملات کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی سوچ اور تنظیمی اصولوں کے مطابق آگے بڑھانا چاہیے۔ اگر کسی معاملے میں قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کا فیصلہ قانون اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کے خلاف شکایت یا ثبوت موجود ہو تو اسے متعلقہ فورم پر پیش کیا جائے تاکہ قانون اور تنظیمی ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ کسی فرد کے خلاف محض الزام یا قیاس کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے بجائے حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے۔
حاجی حبیب الرحمٰن نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ آرائیں برادری کے تمام مخلص، سنجیدہ اور خیرخواہ افراد ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں اور ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر برادری کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ برادری کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی، مثبت سرگرمیوں کی حمایت اور اتحاد و وقار کے تحفظ کے لیے کردار جاری رکھا جائے گا۔
