جہلم میں مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقےکی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ اشیائے ضروریہ کے ساتھ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

سرکاری نرخ نامے میں آلو کی قیمت 30 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ 40 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح بھنڈی 125 روپے کے بجائے 180 روپے، ٹماٹر 190 کے مقابلے میں 250 روپے اور کریلا 150 کے بجائے 200 روپے فی کلو فروخت کیے جانے کی شکایات ہیں۔

گھیا کدو کی سرکاری قیمت 80 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں 150 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ساگ اور پالک کی سرکاری قیمت 56 روپے فی گڈی کے مقابلے میں مارکیٹ میں 100 روپے فی گڈی وصول کیے جا رہے ہیں۔

پھلوں کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ اور مارکیٹ ریٹ میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ سرکاری نرخ نامے کے مطابق انگور کی قیمت 575 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 700 روپے فی کلو فروخت ہونے کی شکایات ہیں۔ امرود 110 روپے کے بجائے 200 روپے، آم چونسہ 330 کے مقابلے میں 400 روپے اور آڑو 350 کے بجائے 450 روپے فی کلو فروخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے، جبکہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمتوں پر اشیائے ضروریہ، پھل اور سبزیاں فروخت ہونے سے غریب، سفید پوش اور دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، مارکیٹوں میں باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے اور مقررہ نرخ سے زائد قیمتیں وصول کرنے والے دکانداروں اور مبینہ منافع خوروں کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کی جائے، تاکہ عام شہریوں کو اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں کے مطابق دستیاب ہو سکیں۔

Exit mobile version