جہلم کے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر شہریوں کے تحفظات

جہلم کے سب سے بڑے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال سمیت ضلع بھر کے متعدد سرکاری و نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے شہریوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض اسپتالوں میں آگ بجھانے کے مؤثر آلات، فائر ہائیڈرنٹس اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں، جس پر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اسپتال انتہائی حساس نوعیت کی عمارتیں ہیں جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریضوں، لواحقین، ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر افراد کی آمدورفت رہتی ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی ہنگامی حادثے یا آتشزدگی کی صورت میں بروقت امدادی کارروائی اور محفوظ انخلا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

شہریوں کے مطابق ضلع کے بعض سرکاری و نجی اسپتالوں میں فائر ہائیڈرنٹس، آگ بجھانے والے آلات اور دیگر حفاظتی سہولیات کی عدم دستیابی یا ناکافی انتظامات باعث تشویش ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف اسپتالوں کی عمارتیں تعمیر کرنا کافی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات بھی یقینی بنانا ضروری ہیں۔

بالخصوص بعض نجی اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے دوران مریضوں اور عملے کے فوری انخلا کے لیے متبادل راستوں کی دستیابی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بالائی منزلوں یا عمارت کے اندرونی حصوں میں موجود مریض، خصوصاً وہ افراد جو خود چلنے پھرنے سے قاصر ہوں، کسی آتشزدگی کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

شہری حلقوں نے متعلقہ بلڈنگ کنٹرول اور دیگر ذمہ دار اداروں سے سوال کیا ہے کہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات اور ہنگامی انخلا کے راستوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا ہے یا نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر باقاعدہ معائنہ کیا جاتا ہے تو فائر ہائیڈرنٹس، آگ بجھانے والے آلات اور متبادل ہنگامی راستوں سمیت حفاظتی انتظامات میں موجود خامیوں کو دور کیے بغیر اسپتالوں کو کام کرنے کی اجازت کیسے دی جاتی ہے۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی، بلڈنگ کنٹرول اور متعلقہ ریسکیو حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔ تمام طبی مراکز میں آگ بجھانے والے آلات، فائر ہائیڈرنٹس، ہنگامی خارجی راستوں، متبادل انخلا کے راستوں اور دیگر حفاظتی انتظامات کی مکمل جانچ کی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جہاں بھی حفاظتی انتظامات میں خامیاں موجود ہوں، وہاں انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق حادثہ پیش آنے کے بعد افسوس اور تحقیقات کرنے سے بہتر ہے کہ حادثے سے پہلے ہی تمام ضروری حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے جائیں، کیونکہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں۔

Exit mobile version