جہلم میں طلاق اور خلع کے بڑھتے رجحان پر تشویش، ازدواجی رشتوں کو درپیش مسائل زیرِ بحث

جہلم:ضلع جہلم میں طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے سماجی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ضلع کی سطح پر طلاق کی شرح میں اضافے کے مستند اور تازہ اعداد و شمار سامنے نہیں آئے، تاہم ملک بھر میں خلع اور طلاق کے معاملات کے حوالے سے جاری بحث نے ازدواجی زندگی کو درپیش مسائل، خاندانی نظام اور میاں بیوی کے باہمی تعلقات پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
سماجی ماہرین کے مطابق ازدواجی رشتوں کے ٹوٹنے کے پیچھے عموماً کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی، بلکہ متعدد معاشی، سماجی اور نفسیاتی عوامل مل کر حالات کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور مالی عدم استحکام میاں بیوی کے درمیان اختلافات اور تنازعات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح گھریلو اخراجات اور مالی ذمہ داریوں سے غفلت بھی ازدواجی زندگی میں کشیدگی پیدا کرنے والے عوامل میں شامل ہے۔
گیلپ پاکستان کے ایک سروے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 33 فیصد افراد نے مالی غفلت کو خواتین کی جانب سے خلع لینے کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔ اس تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ازدواجی زندگی میں مالی معاملات پر باہمی مشاورت، ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اور ایک دوسرے کی ضروریات کا احساس تنازعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سسرالی رشتے داروں کی غیر ضروری مداخلت، میاں بیوی میں عدم برداشت، باہمی اعتماد کا فقدان، گھریلو تشدد، غیر حقیقی توقعات اور مزاج میں عدم مطابقت بھی ازدواجی تنازعات کو سنگین بنا سکتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں خاندانی تعلقات سے متعلق مطالعات میں بھی غربت، بے روزگاری، گھریلو تشدد، خاندان اور دوستوں کی مداخلت اور غیر ضروری مطالبات جیسے عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سماجی حلقوں کے مطابق سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل زندگی بھی ازدواجی تعلقات کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ شوہر یا بیوی کا ضرورت سے زیادہ وقت موبائل فون پر گزارنا، دوسرے افراد سے غیر ضروری رابطے، ایک دوسرے پر شک و شبہات اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی مصنوعی خوش حالی سے اپنی ازدواجی زندگی کا موازنہ کرنا گھریلو اختلافات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر نظر آنے والی زندگی اکثر حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، لیکن اس سے متاثر ہو کر اپنے شریکِ حیات اور گھریلو حالات سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرنے سے مایوسی اور عدم اطمینان پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں میاں بیوی کے درمیان کھل کر بات چیت، اعتماد اور ایک دوسرے کو مناسب وقت دینا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ازدواجی زندگی میں اختلافات پیدا ہونا غیر معمولی بات نہیں، تاہم ان اختلافات کو بروقت بات چیت، باہمی احترام اور مناسب رہنمائی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ خاندان کے بزرگوں یا تربیت یافتہ ازدواجی مشیر کی غیر جانب دارانہ مدد بھی بعض معاملات میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم گھریلو تشدد یا کسی بھی قسم کے خطرے کی صورت میں متاثرہ فرد کی حفاظت اور قانونی مدد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
سماجی حلقوں کے مطابق مضبوط خاندانی نظام کے لیے ضروری ہے کہ شادی سے پہلے ذمہ داریوں، توقعات اور مالی معاملات پر حقیقت پسندانہ گفتگو کی جائے، جبکہ شادی کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق، احساسات اور ضروریات کا احترام کریں۔ باہمی اعتماد، برداشت اور ذمہ داری کا احساس نہ صرف ازدواجی رشتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ خاندانوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔



