جہلم: پنجاب کے سرکاری ملازمین نے حکومت پنجاب کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن میں کیے گئے 10 اور 5 فیصد اضافے کو ناکافی اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
پنجاب ٹیچر یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری چوہدری وحید گجر نے واضح الفاظ میں کہا کہ "ہمیں خیرات نہیں، اپنا حق چاہیے۔” ان کا کہنا تھا کہ وفاقی ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جا رہا ہے جبکہ پنجاب حکومت ہمیں صرف 10 فیصد دے کر خاموش کروانا چاہتی ہے، یہ سراسر مذاق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مراعات صرف اسلام آباد تک محدود ہیں تو پھر کیا پنجاب پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟ پنجاب سے سب سے زیادہ ریونیو اکٹھا ہوتا ہے، پچھلے مالی سال میں پنجاب کے سرکاری ملازمین نے 480 ارب روپے ریکارڈ ٹیکس دیا۔ اس کے باوجود ہمیں ریلیف دینے کے بجائے ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر پنجاب ٹیچر یونین کے سینئر نائب صدر ملک محمد افضل میر نے کہا کہ "اپنی عیاشیوں کے لیے خزانہ خالی نہیں ہوتا، آئی ایم ایف کو تب کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔” انہوں نے بتایا کہ صوبائی وزراء کے دفاتر کا بجٹ 35 کروڑ سے بڑھا کر ایک ارب روپے کر دیا گیا، جب کہ پنجاب اسمبلی کا بجٹ ایک کروڑ 72 لاکھ سے بڑھا کر 7 ارب 35 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب ہمارے خلاف سازش ہے۔
انہوں نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے اور سرکاری ملازمین کا جائز حق دے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور لاہور میں بھرپور دما دم مست قلندر ہو گا۔
اس احتجاجی بیان کے موقع پر پنجاب ٹیچر یونین کے صدر راولپنڈی ڈویژن رانا اشفاق، ضلعی صدر چوہدری راشد محمود، چیئرمین چوہدری شبیر حسین، جنرل سیکرٹری منظور نظامی، اور میڈیا سیکرٹری افضال گجر بھی موجود تھے، جنہوں نے مطالبات کی بھرپور تائید کی۔
