جہلم: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کو صوبہ بھر میں کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔
پنجاب، بالخصوص جہلم سمیت مختلف اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سی سی ڈی کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے 90 روز کے اندر اندر پنجاب کو جرائم سے پاک کرنے کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو جدید ٹیکنالوجی اور کروڑوں روپے کے فنڈز سے لیس کیا گیا ہے تاکہ وہ منظم انداز میں مجرموں کے خلاف کارروائیاں کریں اور صوبے میں قانون کی حکمرانی قائم ہو۔
سی سی ڈی کے قیام کے بعد غنڈے، بدمعاش، اجرتی قاتل اور دیگر خطرناک ملزمان روپوش ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ منشیات فروش خوف کے مارے مساجد میں جا کر قرآن پاک پر حلف دے رہے ہیں کہ وہ اس مکروہ دھندے کو ترک کر رہے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق اب تک کئی ریکارڈ یافتہ ملزمان دوران پولیس مقابلہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جا چکے ہیں، جبکہ متعدد خطرناک مجرم صوبہ چھوڑ چکے ہیں۔ سی سی ڈی نے انڈر ورلڈ مافیا کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے اور جلد ہی بڑی گرفتاریاں متوقع ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی نے ان "بڑے مگر مچھوں” کے لیے بھی جال تیار کر لیا ہے جو پس پردہ شوٹرز کی پشت پناہی کرتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اترواتے ہیں۔ اب پنجاب، جرائم پیشہ عناصر کے لیے نو گو ایریا بنتا جا رہا ہے اور ہر سنگین جرم میں ملوث فرد کو کیفر کردار تک پہنچایا جا رہا ہے۔
شہریوں نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی ان کارروائیوں کو سراہتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نواز اور سی سی ڈی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ تاہم عوامی حلقوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ بے گناہوں کو نقصان نہ پہنچے اور کارروائیاں صرف اُن افراد تک محدود رہیں جو واقعی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں، تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور شہریوں کا اعتماد بحال رہے۔
