غیر قانونی مقیم افغانیوں کے انخلاء کیلئے نادرا سے فہرستیں طلب، جہلم میں 6 مقدمات درج

وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغانیوں سمیت غیر ملکیوں کے انخلا کے لئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا )سے فہرستیں طلب کر لی ہیں۔
پنجاب پولیس نے اپنا ڈیٹا مرتب کرنے کے لئے تھانوں کی سطح پرسرچ آپریشنز شروع کر دیئے ہیں۔ سرچ آپریشنز کے دوران اب تک غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف مجموعی طور پر 14فارن ایکٹ کے تحت ضلع جہلم سمیت راولپنڈی ڈویژن میں 57مقدمات درج کئے گئے ہیں۔
غیر ملکیوں کو رواںماہ پاکستان چھوڑنے کی ہدایات کے بعد پولیس،ضلعی انتظامیہ ،سپیشل برانچ اورانٹیلی جنس اداروں نے ہوم ورک تیز کردیاہے۔ تمام تحصیلوں میں تھانے اور یونین کونسل کی سطح پر غیرقانونی طور پر مقیم افراد کے کوائف کاڈیٹا مرتب کیا جارہا ہے۔ تمام تر حاصل شدہ معلومات کی فہرستوں پر کاؤنٹر چیک بھی جاری ہے۔
30 اکتوبر تک چھان بین مکمل ہونے پر صوبائی حکومت کو فہرستیں بھجوادی جائیں گی، معلومات میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کے گھر بار خاندان کے افراد کاروبار اور مدت شامل ہے۔ غیرملکیوں کی جانب سے جائیدادوں کی خرید اور کاروبار سے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔ جرائم میں ملوث غیرملکیوں کا کرمنل ریکارڈ اور ابتک کی پیشرفت سے ڈیٹا بھی مرتب کیا جارہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق 14فارن ایکٹ کے تحت جہلم میں 6، راولپنڈی میں7، اٹک میں 12 اور چکوال میں 32 مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ ڈیٹا مرتب کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلع جہلم سمیت پنجاب میں غیرقانونی طور پر مقیم افغانیوں کا ڈیٹا وفاقی حکومت کے پاس جارہا ہے جن کی واپسی کا میکنیزم وفاقی حکومت کے پاس ہے وہ پالیسی دے رہی ہے۔ پاکستانی علاقوں کے لوگوں سے تعلق کی آڑ میں پناہ لینے اور دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی جائے گی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے کلیئرنس اور گو تھرو ملتے ہی غیرقانونی افغانیوں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز کیا جائے گا تاہم سردست حکومت نے انہیں رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی ہے ۔



