دریائے جہلم میں کشتی کا خطرناک سفر، حفاظتی انتظامات کی کمی پر شہریوں کا احتجاج

پنڈدادنخان: دریائے جہلم میں پنڈ دادنخان کے ایریا میں چلنے والی کشتی رانی کا انتہائی خطرناک سفر جاری ہے، ایک ہی کشتی میں سینکڑوں من وزنی ٹریکٹر کے علاوہ درجنوں موٹر سائیکلیں اور خواتین و حضرات سوار ہوتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک سفر ہے۔

نیوز لائن کی رپورٹ کے مطابق مسافروں نے نہ تو لائف جیکٹس پہن رکھی ہیں اور نہ ہی کشتی کے گرد حفاظتی جنگلے لگائے گئے ہیں۔ ناقص سیفٹی انتظامات اور اوور لوڈنگ کے باعث کسی وقت بھی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔

جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے تمام پتن سے دریائے جہلم میں چلنے والے کشتیوں کے مالکان اور ٹھیکیدار انتظامیہ کے کسی قسم کے احکامات کی پیروی کرنے سے انکاری ہیں۔ یہ لوگ انتہائی بااثر ہونے کی وجہ سے اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہ تو ضلع کونسل جہلم کے اہلکاروں اور افسران کی بات مانتے ہیں اور نہ ہی ڈی سی جہلم کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں۔

انہیں پولیس کی بھی کوئی پرواہ نہیں ایک ہی کشتی پر بھاری ٹرانسپورٹ اور سواریاں لوڈ کرتے ہیں عیسی وال پتن پر کشتی پر لوڈ ٹریکٹر دریائے جہلم میں گرنے سے بال بال بچا ہے۔

علاقہ کی عوام کا مطالبہ ہے کہ کشتی والوں کو حفاظتی جیکٹس رکھنے کا پابند بنایا جائے کشتی کی سائیڈوں پر حفاظتی جنگلے نصب کرائے جائیں ٹرانسپورٹ لوڈ کرنے والی اور سواریاں لے جانے والی الگ الگ کشتیاں چلائی جائیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button