جہلم میں زرعی فارم میکانائزیشن اور خصوصی تربیتی پروگرام، کسانوں کو جدید زرعی مشینری اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق آگاہی دی گئی

جہلم کے نواحی علاقے بیلی پھروال میں محکمہ زراعت، شعبہ زرعی انجینئرنگ، حکومت پنجاب کے زیرِ اہتمام زرعی فارم میکانائزیشن اور خصوصی تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں کسانوں اور کاشتکاروں نے شرکت کی۔
تربیتی پروگرام کا مقصد کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری کے استعمال، اس کے فوائد اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔
اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی انجینئرنگ مبشر ریاض، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی انجینئرنگ جہلم چوہدری احسان الحق، نیسپاک (NESPAK) کے کنسلٹنٹ عابد جعفری اور ڈائریکٹر سوائل کنزرویشن جہلم ڈاکٹر اعجاز نے کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
مقررین نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے ضلع بھر کے کسانوں کو جدید زرعی مشینری اور آلات کی خریداری پر 60 فیصد تک سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد کاشتکاری کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کے اخراجات میں کمی لانا اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
تربیتی پروگرام کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب سموگ کنٹرول پروگرام اور پنجاب کلین ایئر پروگرام کے حوالے سے بھی کاشتکاروں میں خصوصی آگاہی پیدا کی گئی۔ ماہرین نے کسانوں پر زور دیا کہ دھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات، خصوصاً مڈھوں کو آگ لگانے سے گریز کیا جائے، کیونکہ فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضائی آلودگی اور سموگ میں اضافے کا اہم سبب بنتا ہے، جو انسانی صحت، جانوروں اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔
کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری، بالخصوص سپر سیڈر کے استعمال کی ترغیب دیتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فصل کی باقیات کو جلانے کے بجائے زمین میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقۂ کار سے ایک طرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے تو دوسری جانب زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے اور کھاد کے استعمال میں کمی لانے میں بھی معاونت حاصل ہوتی ہے۔
پروگرام کے دوران کسانوں نے نمائش کے لیے رکھی گئی گرین لینڈ سیڈ ڈرل سمیت دیگر جدید زرعی مشینری کا عملی معائنہ بھی کیا۔ کاشتکاروں نے مشینری کے طریقۂ کار، افادیت اور استعمال کے حوالے سے ماہرین سے مختلف سوالات کیے، جن کے ماہرین نے تفصیلی جوابات دیے اور جدید زرعی مشینری کے عملی استعمال کے حوالے سے کاشتکاروں کی رہنمائی بھی کی۔
اس موقع پر ماہرین نے کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ جدید مشینری کے استعمال سے نہ صرف کاشتکاری کے روایتی طریقوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ پیداواری لاگت کم کرنے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول کو آلودگی سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر بیلی پھروال اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے کاشتکاروں اور زمینداروں نے حکومت پنجاب اور محکمہ زراعت کے اس اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے آگاہی اور زرعی مشینری کی خریداری پر سبسڈی جیسے اقدامات نہ صرف کسانوں کے لیے سہولت کا باعث بنیں گے بلکہ زرعی پیداوار میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔



