رنگ گورا کرنے والی جعلی کریموں کی کھلے عام فروخت، جلدی امراض میں اضافہ

جہلم: شہر اور گردونواح میں رنگ گورا کرنے والی جعلی کریموں کی کھلے عام فروخت جاری ہے، جس سے خواتین اور نوعمر لڑکے جلدی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ جعلی کریموں کی تیاری میں زہریلے کیمیکل استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے سنگین مضر اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان جعلی کریموں کی تیاری میں غیر معیاری اور زہریلے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ کریمیں گھروں میں تیار کی جاتی ہیں اور ان پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے مونوگرام لگا کر مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام مفلوج ہونے کی وجہ سے یہ غیر قانونی کاروبار عروج پر پہنچ چکا ہے۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ جعلی کریموں کے استعمال سے جلدی مسائل، جیسے الرجی، خارش اور دیگر پیچیدہ امراض عام ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ میں ایسی مصنوعات کی بھرمار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔
شہریوں نے ارباب اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی کریموں کی تیاری اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو اس خطرناک دھندے سے محفوظ رکھا جا سکے۔



