عالمی برادری کی جانب سے بے عملی اور کشمیر کے بارے میں مجرمانہ خاموشی افسوسناک اور خطرناک ہے، ڈاکٹر غلام نبی فائی

مکہ مکرمہ: سیکرٹری جنرل ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم واشنگٹن ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ کشمیر کا تنازع مودی کی نام نہاد ترقی ، نوکریوں یا دولت سے وابستہ نہیں بلکہ یہ آزادی اور عوام کی حق خود مختاری اور حق کے احترام کے بارے میں ہے کہ وہ باہر کے لوگوں کی مداخلت کے بغیر اپنے طرز زندگی، اپنے رہنما اور اپنی سیاست کا انتخاب کریں۔

وہ اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو، ان کے مذہبی پس منظر اور ثقافتی وابستگیوں سے قطع نظر، اقوام متحدہ نے کشمیر کی مستقبل کی حیثیت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا تھا۔

ڈاکٹر غلام نبی فائی کاکہناتھاکہ یہ وہ اصول ہے جس پر ہندوستان اور پاکستان دونوں نے اتفاق کیا تھا اور عالمی برادری نے اس کی تائید کی تھی، شاید بھارت یہ بہانہ کرے کہ وہ اس آپشن کو یکطرفہ طور پر پیش کر سکتا ہے، لیکن کشمیری عوام اپنے حق کے بارے میں اسے بالکل نہیں بھولے ۔فائی نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بے عملی اور کشمیر کے بارے میں مجرمانہ خاموشی افسوسناک اور خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر پہل کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف کشمیر میں خونریزی اور مصائب کا خاتمہ ہو گا بلکہ علاقائی لڑائی اور بھارت و پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی ختم ہو کر بین الاقوامی سلامتی پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کرے گا، تنازعہ کشمیر کو بغیر کسی تاخیر کے پرامن طریقے سے حل کرنا سب کے مفاد میں ہے۔

ان کا مزید کہناتھا کہ چالبازی ، حوصلہ افزائی اور منظوری خواہ کسی کی طرف سےدی گئی ہو، اس مطالبے کا جواب نہیں ہو سکتا جس کے لیے کشمیر میں دسیوں ہزار لوگوں نے اپنا خون بہایا ہے ، کشمیر کے حق خود اختیاری کے اصول کو نظر انداز کرنا علاقہ کے امن میں ناکامی کی منصوبہ بندی کرنے کے مترادف ہے ۔

یادرہے کہ جدہ میں ڈاکٹرفائی کے اعزاز میں پاکستان قونصلیت جدہ کے زیرسرپرستی کشمیر کمیٹی جدہ نے شاندار استقبالیہ دیا جس میں سعودی اور پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ بعدازاں ایک اور نجی تنظیم نے بھی استقبالیہ دیا۔

↑
Exit mobile version