خلیجی ممالک جانےوالے پاکستانیوں کی چیکنگ مزید سخت کرنےکی تجویز

دبئی: خلیجی ممالک جانے والے پاکستانیوں کی ایئرپورٹ پر چیکنگ مزید سخت کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔

خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے پاکستانیوں کو مشورہ دیا ہے کہ سیاحتی ویزے پر نوکریوں کی تلاش سے گریز کریں، وزٹ ویزہ کے لیے درکار ضروریات جیسے ہوٹل میں رہائش کا ثبوت، ریٹرن ٹکٹ اور 3 ہزار درہم کی اپنے ہمراہ موجودگی یقینی بنائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات آنے والے پاکستانی شہری یہاں کے قواعد و ضوابط پر عمل کریں کیوں کہ ہر فرد اپنے ملک کی نمائندگی کرتا ہے اور جب آپ سیاحتی ویزے پر ہوتے ہیں تو آپ کو صرف سیاحت کرنی چاہیے، عجائب گھروں، مساجد، مالز وغیرہ سے لطف اندوز ہونا چاہیئے، جب آپ سیاحتی ویزے پر ہوں تو ملازمتیں تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں، اس مقصد کے لیے انہیں ملازمت کے ویزے پر متحدہ عرب امارات آنا چاہیئے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ہم نے حکومت پاکستان کو تجویز دی ہے کہ سیاحتی ویزے پر متحدہ عرب امارات آنے والوں کی ایئرپورٹ پر چیکنگ مزید سخت کی جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ ضروریات کو پورا کرتے ہیں کیوں کہ ایسی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں کہ ملازمت کے متلاشی روزگار کی تلاش کے لیے وزٹ ویزہ پر آئے، تاہم یہ عمل صرف پاکستانی کمیونٹیز تک محدود نہیں ہے کئی دیگر ممالک کے شہری بھی یو اے ای کے وزٹ ویزے پر ملازمت کے مواقع تلاش کرنے آتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2022ء میں امارات نے نوجوان ٹیلنٹ اور ہنر مند پیشہ ور افراد کو سہلوت فراہم کرتے ہوئے ملازمت کے مواقع تلاش کرنے کے لیے "جاب ایکسپلوریشن ویزہ” کا اجراء کیا، قانونی ماہرین کا یہ بھی مشورہ ہے کہ اگر لوگ یو اے ای میں ملازمت کے مواقع تلاش کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے قانون کی پابندی کرنا اور متحدہ عرب امارات کا "جاب سیکر ویزہ” حاصل کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں نے بیرون ممالک میں بھیک مانگنے کا سہارا لیا ہے، اس لیے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھی سخت اقدامات کی ضرورت ہے، ہم نے اسلام آباد سے ان لوگوں پر سفری پابندی لگانے کو بھی کہا ہے جنہیں بھکاری کے الزام میں ملک بدر کیا جاتا ہے، ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ جن لوگوں پر بھیک مانگنے کی وجہ سے الزامات لگائے گئے اور وہ ڈی پورٹ کیے گئے ان کو سفری پابندی کا سامنا کرنا چاہیئے تاکہ وہ دوبارہ کسی بیرونی ملک کا سفر نہ کریں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہر پاکستانی کو خلیجی ملک کے قوانین اور پالیسیوں کا احترام کرنا چاہیے اور یہ بہت ضروری ہے کہ ہم مقامی پالیسیوں کا احترام کریں اور ان پر عمل کریں کیوں کہ یہاں موجود ہر پاکستانی ریاست پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے وہ اپنے ملک کا ایک سفیر ہے، اس کا طرز عمل پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے اسے پاکستان کی حقیقی تصویر پیش کرنے کی پوری کوشش کرنی ہوگی۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ سال 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارات چلے گئے، متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کے لیے دوسری سرفہرست منزل رہی جس میں 2023ء میں جنوبی ایشیائی ممالک سے ہجرت کرنے والوں کی کل تعداد کا 26 اعشاریہ 77 فیصد شامل تھا، مجموعی طور پر تقریباً 6 لاکھ سے 8 لاکھ پاکستانی سالانہ ملازمتوں اور سیاحت کے مقاصد کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں، جن سے زیادہ تر خاص طور پر جی سی سی ممالک، یورپ اور امریکا کا رخ کرتے ہیں۔

فیصل نیاز ترمذی نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات ترقی کی اگلی سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں انہیں بلیو کالر ورکرز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ زیادہ پیشہ ور افراد اور وائٹ کالر افرادی قوت کی ضرورت ہے، متحدہ عرب امارات کو آئی ٹی ماہرین، بینکرز، ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر شعبوں کے ماہرین کی ضرورت ہے، جاپان اور جنوبی کوریا بھی ہنر مند مزدوروں کی تلاش میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپ ایک عمر رسیدہ معاشرہ ہے اس لیے اسے ہنر مند نرسوں اور معالجین کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی طبی تربیت کرنی چاہیئے، تاکہ پیشہ ور افراد نا صرف متحدہ عرب امارات اور جی سی سی ممالک بلکہ یورپی اور جاپانی مارکیٹوں میں بھی مواقع تلاش کریں، اس مقصد کے لیے ملک میں نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کھولنے کی بھی تجویز دی ہے کیوں کہ خاص طور پر مغربی ممالک میں نرسوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button