جہلم میں سوئی گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے صارفین پریشان، گھریلو اور کاروباری معمولات متاثر

جہلم شہر کے مختلف علاقوں میں سوئی گیس کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے صارفین کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ طویل دورانیے اور بار بار سوئی گیس کی عدم دستیابی کے باعث جہاں شہریوں کے گھریلو معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، وہیں کاروباری افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صارفین کے مطابق سوئی گیس کی اعلانیہ بندش کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے ان کے گھریلو بجٹ کو بھی بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ گیس کی مسلسل عدم دستیابی کے باعث سکولوں اور کالجوں میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات سمیت کاروباری افراد اور سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے افسران و اہلکاروں کو بعض اوقات ناشتہ کیے بغیر ہی گھروں سے روانہ ہونا پڑتا ہے، جس سے روزمرہ معمولات متاثر ہو رہے ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ سوئی گیس کی عدم دستیابی کے باعث متبادل ایندھن کے طور پر ایل پی جی استعمال کرنا پڑتی ہے، تاہم ایل پی جی کی قیمتیں بھی قابو میں نہ ہونے کے باعث گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ اضافی اخراجات کے باعث شہریوں کے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ بعض خاندانوں میں مالی دباؤ کے نتیجے میں لڑائی جھگڑے بھی روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے انہیں شدید اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ گیس کی فراہمی کے مقررہ اوقات میں بھی عدم دستیابی کے باعث خواتین کو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
صارفین نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اور سوئی گیس کی مقررہ اوقات میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوسکے اور وہ اضافی اخراجات اور مالی نقصان سے بھی محفوظ رہ سکیں۔



