ہیوسٹن: اللہ کا ذکر صرف زبان سے نہیں، دل اور عمل سے بھی ہونا چاہیے، امیر عبدالقدیر اعوان

ہیوسٹن: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں کراچی ریسٹورنٹ کے مقام پر ’’پیس آف ہارٹ‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے شیخ اور سقارہ ایجوکیشن سسٹم کے سرپرستِ اعلیٰ امیر عبدالقدیر اعوان تھے۔

پروگرام کا اہتمام شہید فیض صاحب اور عاصم ذکریا صاحب نے کیا، جس میں پاکستانی کمیونٹی سمیت مختلف افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء کے اعزاز میں عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے اپنے خصوصی خطاب میں ذکرِ الٰہی کی اہمیت، حقیقتِ زندگی اور اتباعِ رسول اللہ ﷺ کے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر حال میں ہونا چاہیے اور یہ صرف زبان سے تسبیح پڑھنے تک محدود نہیں، بلکہ دل اور عمل کے ذریعے بھی اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی قرآن و سنت اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کے مطابق گزارے تو اس کے روزمرہ زندگی کے معمولات بھی عبادت کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کائنات کی ہر چیز ایک خاص مقصد کے تحت تخلیق کی گئی ہے، اس لیے انسان کی زندگی بھی بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ انسان کو دنیاوی مصروفیات اور خواہشات میں الجھ کر اپنی آخرت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور ہر شخص کو اپنے اعمال اور نیتوں کا حساب دینا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے اس بات پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کی تعلیمات کو دوسروں کے لیے نصیحت سمجھنے کے بجائے خود اپنی زندگی میں رہنمائی کے طور پر اپنایا جائے۔ دوسروں کی خامیوں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی اصلاح اور محاسبۂ نفس کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی سوچ، کردار، معاملات اور عملی زندگی میں اپنایا جائے۔ انہوں نے ذکرِ الٰہی کی تین صورتوں، یعنی عملی، لسانی اور قلبی ذکر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اخلاص، دینی علم، دل کی اصلاح اور روحانی تربیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

پروگرام میں امیر عبدالقدیر اعوان کے خطاب کو شرکاء نے توجہ سے سنا۔ تقریب کا اختتام شرکاء کے لیے عشائیے کے اہتمام کے ساتھ ہوا۔

↑
Exit mobile version