چائلڈ لیبر کی کھلی خلاف ورزیاں، جہلم میں معصوم بچے استحصال اور تشدد کا شکار

جہلم شہر اور ضلع بھر میں چائلڈ لیبر کے قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ ہوٹلوں، ورکشاپس، بھٹہ خشت، اور دیگر کاروباری مراکز پر کمسن بچوں کو معمولی اجرت پر ملازم رکھ کر نہ صرف ان سے سخت مشقت لی جا رہی ہے بلکہ انہیں جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں موجود بھٹہ خشت، نجی کارخانوں، مکینک ورکشاپس، ہوٹلوں اور چائے کے ڈھابوں پر کم عمر بچوں کو غیر قانونی طور پر مزدور کے طور پر رکھا جا رہا ہے۔ ان بچوں سے 12 سے 14 گھنٹے تک سخت مشقت کروائی جاتی ہے، اور معمولی باتوں پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق غریب والدین معمولی اجرت کے لالچ میں اپنی کمسن بچیوں کو گھریلو کام کاج کے لیے بھیج دیتے ہیں، جہاں وہ دن بھر بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر ذمہ داریاں نبھاتی ہیں۔ ان بچیوں کو بھی جسمانی اور جذباتی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی پالیسی کے تحت بچوں کو اسکولوں میں داخلے کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے غربت کے مارے خاندان اپنے بچوں کو تعلیم کے بجائے مزدوری پر لگا دیتے ہیں۔
شہریوں نے چائلڈ لیبر کے ان بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکام فوری طور پر ان معاملات کا نوٹس لیں۔ عوامی حلقے یہ بھی تجویز دے رہے ہیں کہ انتظامی گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے صوبوں کی سطح پر چھوٹے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں تاکہ مسائل کے حل کو ممکن بنایا جا سکے۔
چائلڈ لیبر کے ان واقعات نے نہ صرف انسانی حقوق کے علمبرداروں بلکہ عام شہریوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کا استحصال کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔



