جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے عہدیداران اور علمائے کرام نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے موقع پر اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء تاریخِ کشمیر کا ایک سیاہ دن ہے، جب بھارتی افواج سری نگر میں اتریں اور کشمیر کے مستقبل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے متعلق تنازع نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔
مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے رہنماؤں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک اہم انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے مقبوضہ وادی کے عوام مشکلات، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم ان کے جذبۂ حریت کو دبایا نہیں جا سکا۔
علمائے کرام نے کہا کہ بھارتی مظالم، پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنا پاکستان سمیت عالمی برادری کی اہم ذمہ داری ہے۔
مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے۔
مشترکہ بیان میں کشمیری عوام کو یقین دلایا گیا کہ پاکستانی قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گی۔ علمائے کرام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزادیِ کشمیر اور کشمیری عوام کو ان کے حقوق ملنے تک ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار جاری رکھا جائے گا۔
