رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی میں ہوشربا اضافہ، عوام پریشان

جہلم: رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی اشیائے خوردونوش، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ ذخیرہ اندوزوں نے بھی منافع خوری کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

قصابوں نے گائے کے بغیر ہڈی اور چربی والے گوشت کا قیمہ 1400 روپے فی کلو جبکہ گوشت 1000 سے 1200 روپے فی کلو تک فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح بکرے کے گوشت کا قیمہ 2400 روپے فی کلو اور گوشت 2000 روپے فی کلو کے حساب سے بیچا جا رہا ہے۔

آٹے کی قیمت میں حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق 1000 روپے کی کمی کے باوجود نانبائیوں نے نان کی قیمت 20 روپے کے بجائے 25 روپے مقرر کر رکھی ہے۔ بیکری مصنوعات جیسے ڈبل روٹی، بسکٹ، کیک، رس اور مٹھائی کی قیمتوں میں بھی خودساختہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پکوڑوں اور سموسوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ 20 روپے والا سموسہ اب 30 سے 40 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ چینی جو کچھ ہفتے قبل 122 روپے فی کلو میں دستیاب تھی، اب 152 سے 162 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔

عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ بیسن اور دالوں کی قیمتوں میں بھی بے جا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے اپیل کی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

↑
Exit mobile version