
جہلم شہر اور گرد و نواح میں مضر صحت، لاغر، بیمار اور نیم مردہ جانوروں کے پانی ملے گوشت کی فروخت سر عام جاری ہے۔ ناقص اور غیر معیاری گوشت کی دستیابی نہ صرف انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے بلکہ اس کے باعث شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
عوامی شکایات کے مطابق شہر بھر میں بڑے گوشت اور چھوٹے گوشت کی قیمتیں بھی انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہیں۔ قصاب اپنی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں اور بغیر مہر کے غیر معیاری اور مضر صحت گوشت فروخت کیا جا رہا ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس صورتحال کے باعث عام آدمی کے لیے معیاری گوشت خریدنا مشکل ہو چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل نظر آتی ہے اور قصابوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔ قصاب کھلے عام قوانین کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں جبکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
سماجی، فلاحی اور عوامی حلقوں نے اس تشویشناک صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مضر صحت گوشت کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک میسر آ سکے۔