30 ستمبر کے بعد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے پر 25 ہزار روپے جرمانے کی تجویز

جہلم: تاجروں کے لیے مجوزہ آسان ٹیکس اسکیم کے تحت 30 ستمبر کے بعد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے تاجروں پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف 14 اگست کو تاجروں کے لیے آسان ٹیکس اسکیم اور رواں مالی سال کے انکم ٹیکس گوشواروں کا نیا فارم متعارف کرائیں گے۔ مجوزہ اسکیم کا مقصد تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے عمل کو آسان بنانا اور ٹیکس نظام میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکیم کے تحت 30 ستمبر تک بروقت انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے تاجروں کو خصوصی سہولت دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ بروقت گوشوارے جمع کرانے والے تاجروں کو آسان ٹیکس اسکیم کی رجسٹریشن فیس سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

دوسری جانب 30 ستمبر کے بعد گوشوارے جمع کرانے والے تاجروں کے لیے 25 ہزار روپے رجسٹریشن فیس اور 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بروقت گوشوارے جمع کرانے والے تاجروں کو 25 ہزار روپے کی رجسٹریشن پلیٹ فراہم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

مجوزہ اسکیم کے تحت کاروباری افراد اور انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے الگ الگ انکم ٹیکس گوشوارہ فارم متعارف کرانے کی بھی تجویز ہے تاکہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے عمل کو مزید آسان اور سہل بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے انکم ٹیکس گوشواروں کے لیے نیا فارم 14 اگست کو لانچ کیے جانے کی توقع ہے، جس کا بنیادی مقصد تاجروں کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔

واضح رہے کہ 25 ہزار روپے جرمانے، رجسٹریشن فیس اور دیگر مراعات سے متعلق تفصیلات فی الحال مجوزہ تجاویز کی صورت میں بیان کی جا رہی ہیں۔ ان کا حتمی اطلاق متعلقہ حکومتی نوٹیفکیشن اور قواعد جاری ہونے کے بعد ہی ہوگا۔

Exit mobile version