جہلم میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار، شہری مہلک بیماریوں کے خطرے سے دوچار

جہلم شہر اور گرد و نواح میں عطائی ڈاکٹروں کا راج برقرار، غیر مستند معالج ایڈز، ٹی بی، ہیپاٹائٹس بی اور سی سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں کا باعث بننے لگے۔ نیم حکیم مردانہ قوت بڑھانے کے نام پر زہریلی ادویات دے کر شہریوں کے گردے فیل کرنے میں مصروف، جبکہ متعلقہ حکام سب اچھا کی رپورٹ پیش کرنے میں مگن ہیں۔

عرصہ دراز سے جہلم اور اس کے گرد و نواح میں عطائی ڈاکٹروں اور نیم حکیموں نے جگہ جگہ کلینک اور دوا خانے قائم کر رکھے ہیں، جہاں وہ غیر معیاری اور خطرناک علاج کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ یہ نام نہاد معالج مردانہ قوت بڑھانے کے نام پر دیسی ادویات کے جھوٹے دعوے کر کے ان پڑھ اور سادہ لوح افراد کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں اور زہریلے کشتے کھلا کر گردے فیل کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اس خطرناک دھندے کے باوجود متعلقہ ضلعی محکمہ صحت، خاص طور پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، مبینہ طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور موت کے ان سوداگروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔

شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی اور جان لیوا کاروبار کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے، عطائی ڈاکٹروں کے کلینک سیل کیے جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر صحت، کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

↑
Exit mobile version