ملک میں افراط زر کی شرح میں گزشتہ ہفتے کے دکارروائیوران ہفتہ وار بنیادوں پر 0 اعشاریہ 04 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 30 اعشاریہ 68 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان بیورو برائے شماریات کی جانب سے افراط زر بارے ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 22 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک میں روزمرہ استعمال کی آٹھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
اس کے برعکس 23 اشیاء کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران پیاز کی قیمت میں 14 اعشاریہ 42 فیصد، انڈے 11 اعشاریہ 19 فیصد، ایل پی جی 1 اعشاریہ 82 فیصد، پانچ لیٹر کوکنگ آئل 0 اعشاریہ 75 فیصد، آٹا 0 اعشاریہ 36 فیصد، سرسوں کا تیل 0 اعشاریہ 33 فیصد، آلو 0 اعشاریہ 23 فیصد اور ایک کلو بناسپتی گھی کی قیمت میں 0 اعشاریہ 11 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس کے برعکس ٹماٹر کی قیمت میں 22 اعشاریہ 71 فیصد، کیلا 7 اعشاریہ 40 فیصد، ڈیزل 3 اعشاریہ 02 فیصد، چکن 1 اعشاریہ 22 فیصد، پٹرول 1 فیصد، چینی 0 اعشاریہ 87 فیصد، مٹن 0 اعشاریہ 86 فیصد، بیف 0 اعشاریہ 74 فیصد، دہی 0 اعشاریہ 71 فیصد، دال مونگ 0 اعشاریہ 54 فیصد، جلانے کی لکڑی 0 اعشاریہ 20 فیصد اور جارجٹ کی قیمت میں 0 اعشاریہ 14 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سب سے کم یعنی 17 ہزار 732 روپے ماہوار آمدنی رکھنے والے گروپ کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں 0.08 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 17 ہزار 733 روپے سے لے کر 22 ہزار 888 روپے، 22 ہزار 889 روپے سے لے کر 29 ہزار 517 روپے، 29 ہزار 518 روپے سے لے کر 44 ہزار 175 روپے اور اس سے زیادہ ماہوار آمدنی رکھنے والے گروپوں کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں بالترتیب 0 اعشاریہ 03 فیصد (کمی)، 0 اعشاریہ 01 فیصد (کمی)، 0 اعشاریہ 02 فیصد اور 0 اعشاریہ 09 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
واضح رہے صارفین کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریہ کا تعین ملک کے 17 بڑے شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی بیشی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
