11 اکتوبر کو دنیا بھر میں انٹرنیٹ بند ہونے کی افواہیں
ناسا اور متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اس حوالے سے اہم بیان جاری کردیا

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی اتھارٹی نے 11 اکتوبر کو دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروس میں خلل کی افواہوں سے متعلق بیان جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق یو اے ای میں حکام نے 11 اکتوبر کو دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروس میں ممکنہ رکاوٹ کے بارے میں رپورٹس کی تردید کی ہے، امارات کی ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (TDRA) نے حالیہ رپورٹس کو غلط قرار دے دیا۔
اس سلسلے میں اتھارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ” 11 اکتوبر کے دن انٹرنیٹ خدمات میں کوئی خلل نہیں پڑے گا، ہم ہر کسی پرزور دیتے ہیں کہ وہ غیر ضروری پریشانی سے بچنے کے لیے درست معلومات کے لیے صرف آفیشل ذرائع پر انحصار کریں۔
#TDRA No Disruption in Internet Services on 11th Oct.
We strongly encourage everyone to rely solely on our official channels.#UAE pic.twitter.com/XG0WrbHNLC— تدرا 🇦🇪 TDRA (@tdrauae) October 3, 2023
اسی حوالے سے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (NASA) نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کی افواہوں پر تبصرے میں کہا کہ یہ معلومات بالکل غلط ہیں۔
ناسا کا کہنا ہے ہے کہ ایسا کوئی ثبوت، ڈیٹا یا دیگر نشانیاں نہیں ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ دنیا کو اگلے مختصر عرصے میں انٹرنیٹ سروسز کے ساتھ کوئی مسئلہ درپیش ہوگا، قابل تصدیق حقائق اور درست معلومات کی بنیاد پر ایسا کوئی واضح خطرہ نہیں ہے کہ انٹرنیٹ کو دنیا بھر میں بند کر دیا جائے گا لہٰذا اس طرح کے دعوؤں سے گمراہ نہ ہوں، اس صورتحال میں کسی بھی قسم کی تشویش میں مبتلاء ہونے یا گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر شمسی طوفان کی وجہ سے اچانک عالمی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی افواہ بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے، جس نے قیاس آرائیوں اور غلط فہمیوں کو جنم دیا، اروائن کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں کمپیوٹر سائنس کی پروفیسر سنگیتا عبدو جیوتھی کے ’سولر سپر اسٹورمز؛ پلاننگ فار این انٹرنیٹ اپوکیلیپس‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالے میں پیش کردہ تصور کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اور غیر ضروری خطرے کی گھنٹی کا سبب بنایا گیا۔



