دینہ/ سوہاوہ: سپریم کورٹ آف پاکستان نے تھانہ دینہ کے مشہور مقدمہ نمبر 371/15 بجرم 302/376 کے مرکزی ملزم عاصم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق مجرم عاصم اور اس کے ایک ساتھی نے 18 اکتوبر 2015 کو ڈھوک میاں قطب دین کی رہائشی سات سالہ معصوم بچی کشف نعیم کو مبینہ زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا تھا، جس پر علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔
اس سنگین جرم پر ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ بعد میں ملزم نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔
سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت جسٹس شہزاد احمد کھیبہ اور جسٹس طارق عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ مدعی کی جانب سے نامور قانون دان ایڈووکیٹ اسرار احمد مرزا، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پیش ہوئے جبکہ ان کی معاونت سوہاوہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز قانون دان چوہدری محمد سعید ایڈووکیٹ نے کی۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ اسرار احمد مرزا نے عدالت کے سامنے مضبوط قانونی دلائل پیش کیے، جن سے اتفاق کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ملزم عاصم کی اپیل خارج کر دی اور اس کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا۔
عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد علاقے میں انصاف کی فراہمی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں انصاف اور قانون کی بالادستی قائم رہ سکے۔
