دینہ: سنگدل باپ کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والی دو معصوم بچیوں کی نماز جنازہ دینہ میں ادا کر دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق نہر اپر جہلم میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والی دو معصوم بہنوں فجر ذیشان اور نور فاطمہ کی نمازِ جنازہ گزشتہ رات ہاکی گراؤنڈ دینہ میں ادا کر دی گئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ معصوم بچیوں کی ناگہانی موت پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔
دونوں بہنوں کی میتیں گزشتہ صبح نہر اپر جہلم سے نکالی گئی تھیں، جنہیں ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد دونوں معصوم بہنوں کو اشک بار آنکھوں سے سپردِ خاک کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ پولیس کے مطابق 15 ستمبر کو تین بچوں کے مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کے بعد انہیں نہر اپر جہلم میں پھینکے جانے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ والدہ امبرین اشرف کی درخواست پر تھانہ منگلا میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں ان کے سابق شوہر زیشان فاروق سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق زیشان فاروق بچوں کو سیر کروانے کے بہانے اپنے ساتھ لے گیا اور مبینہ طور پر خاری شریف کے قریب نہر میں پھینک دیا۔
ریسکیو 1122 میرپور اور پاونڈا واٹر ریسکیو ٹیموں نے بچوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کیا، جس کے دوران 8 سالہ فجر ذیشان اور 3 سالہ نور فاطمہ کی لاشیں برآمد کر لی گئیں، جبکہ 5 سالہ عمر ذیشان تاحال لاپتہ ہے۔
تیسرے بچے عمر ذیشان کی لاش کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حکام کے مطابق اندھیرے کے باعث سرچ آپریشن روک دیا گیا تھا، جسے دوبارہ شروع کیا گیا۔ دوسری جانب واقعے کی مزید تفتیش پولیس کی جانب سے جاری ہے۔
