66 سالہ جدوجہد رنگ لے آئی، پڑی درویزہ باقاعدہ یونین کونسل منظور، سرکاری نوٹیفکیشن جاری

پڑی درویزہ: مقامی اہل قلم اور سماجی کارکنان کی طویل جدوجہد بالآخر رنگ لے آئی اور 66 سال بعد تاریخی گاؤں پڑی درویزہ کو باقاعدہ طور پر یونین کونسل کا درجہ دے دیا گیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے اس حوالے سے سرکاری نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد علاقے میں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی حلقوں نے اسے علاقے کے دیرینہ مطالبے کی منظوری اور حق دار کو اس کا حق ملنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سال 1959ء میں بنیادی جمہوریتوں کے قانون کے تحت علاقے کے تاریخی ہیرو اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس راجہ عنایت اللہ خان (ستارہ قائداعظم) کی تحریک پر یونین کونسل پڑی درویزہ منظور کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں سرکاری طور پر ضلع کونسل جہلم کے نام اراضی کا ایک قطعہ بھی مختص کیا گیا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر پڑی درویزہ میں یونین کونسل کا دفتر قائم نہ ہو سکا اور تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں پھلڑے سیداں میں یونین کونسل کا دفتر قائم کر دیا گیا۔

تاریخی حقائق اور شواہد کے مطابق 1980ء کی دہائی کے آغاز تک یونین کونسل کے دفتر کی عمارت کے دروازے پر پڑی درویزہ کا نام درج رہا، تاہم بعد ازاں اس کی جگہ پھلڑے سیداں کا نام آویزاں کر دیا گیا۔ اس طرح پڑی درویزہ کے تاریخی پس منظر اور سابقہ منظوری کے باوجود علاقے کے مکین طویل عرصے تک اپنی الگ یونین کونسل کے قیام کے منتظر رہے۔

تقریباً تین ماہ قبل جب پنجاب بھر میں یونین کونسلوں کی آبادی کے مطابق نئی حد بندی اور تنظیمِ نو کا عمل شروع ہوا تو پڑی درویزہ کے نوجوان سماجی کارکنان اور اہلِ قلم نے اس دیرینہ مسئلے کو دوبارہ اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں شروع کر دیں۔ اس جدوجہد میں شفقت اقبال، ملک خلیق انجم اعوان ایڈووکیٹ، محمد طفیل مغل، محمد شکیل کیانی، ملک محمد شفیق، سابق ہیڈ ماسٹر صغیر احمد، ماسٹر اصغر ولایت، نوخیز جاوید اور ملک محمد سلیم نے اہم کردار ادا کیا۔

اس مہم میں مقامی صحافی، معروف کالم نگار اور سماجی کارکن پروفیسر افتخار محمود کی کوششیں بھی شامل رہیں، جنہوں نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ تاریخی حقائق اور علاقے کے دیرینہ مطالبے کو متعلقہ حلقوں تک پہنچانے کے لیے جدوجہد کی۔

اس سلسلے میں سابق چیئرمین یونین کونسل پھلڑے سیداں سید ذیشان حیدر ایڈووکیٹ کا کردار بھی مرکزی حیثیت کا حامل رہا۔ مزید برآں حلقہ این اے 60 سے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر مملکت برائے ریلوے و خزانہ بلال اظہر کیانی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق رکن صوبائی اسمبلی راجہ اویس خالد کا تعاون بھی اس جدوجہد میں شامل رہا۔

بالآخر ان تمام کوششوں کے نتیجے میں حکومت پنجاب کے شعبہ قانون و پارلیمانی امور کی نگرانی میں لوکل گورنمنٹ اور شعبہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی جانب سے 6 اکتوبر 2026ء کو نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق تحصیل سوہاوہ کی پہلے سے موجود دس یونین کونسلوں میں مزید تین یونین کونسلوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں پڑی درویزہ کو نمبر شمار 6 پر باقاعدہ یونین کونسل کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد تاریخی گاؤں پڑی درویزہ کو اپنی الگ یونین کونسل کا باقاعدہ حق مل گیا ہے۔

علاقے کے مکینوں اور سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل قریب میں پڑی درویزہ میں یونین کونسل کا دفتر فعال ہو جائے گا، جس سے مقامی آبادی کو سرکاری امور کی انجام دہی اور بلدیاتی سہولیات کے حصول میں آسانی میسر آئے گی۔

مقامی اہلِ قلم اور سماجی کارکنان کی طویل جدوجہد کے بعد یونین کونسل کی باقاعدہ منظوری کو علاقے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف پڑی درویزہ کی تاریخی شناخت کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا گیا ہے بلکہ مقامی آبادی کی دیرینہ امید بھی پوری ہوئی ہے۔

↑
Exit mobile version