مہنگائی کے بڑھتے دباؤ سے غریب اور سفید پوش اور متوسط طبقہ پریشان، گھریلو بجٹ شدید متاثر

جہلم: ضلع جہلم سمیت ملک بھر میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے غریب، سفید پوش اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث محدود آمدن رکھنے والے خاندانوں کے لیے گھریلو بجٹ ترتیب دینا انتہائی دشوار ہو گیا ہے، جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش، سبزیوں، دالوں، گوشت، دودھ، بجلی، گیس اور دیگر ضروری اخراجات نے شہریوں کو شدید مالی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے باوجود اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال تنخواہوں میں معمولی اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی اخراجات میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ مہینے کے آغاز میں تنخواہ ملنے کے چند ہی روز بعد گھریلو ضروریات کی خریداری میں بڑی رقم خرچ ہو جاتی ہے، جس کے باعث باقی پورا مہینہ مالی مشکلات میں گزرنے لگتا ہے۔

شہریوں کے مطابق بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ سال بھر وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے، جس کے باعث محدود آمدن رکھنے والے خاندانوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، سوئی گیس کے بل، بجلی کے اخراجات، ایل پی جی سلنڈر، سفری اخراجات اور دیگر ضروریات کے لیے رقم بچانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی مشکلات مزید اس لیے بڑھ جاتی ہیں کہ وہ نہ تو کھلے عام مالی امداد طلب کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی مالی پریشانیوں کا اظہار آسانی سے کر پاتے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی کا دباؤ بظاہر متوسط آمدن رکھنے والے ان خاندانوں پر بھی مسلسل بڑھ رہا ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے محدود وسائل میں زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعدد خاندانوں کے مطابق گھریلو بجٹ کو متوازن رکھنے کے لیے انہیں غیر ضروری اخراجات مکمل طور پر ختم کرنے، خریداری محدود کرنے اور بعض ضروری اشیاء بھی پہلے کے مقابلے میں کم مقدار میں خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے جن اشیاء کی ماہانہ بنیاد پر خریداری آسانی سے ہو جاتی تھی، اب انہی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ان کی مقدار کم کرنا پڑ رہی ہے۔

دوسری جانب دکانداروں کے مطابق اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث صارفین کی قوت خرید بھی متاثر ہوئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ شہری پہلے کے مقابلے میں کم مقدار میں اشیاء خرید رہے ہیں، جبکہ بعض افراد مختلف اشیاء کی قیمتیں معلوم کرنے کے بعد مہنگائی کے باعث خریداری کیے بغیر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

دکانداروں کے مطابق بازاروں میں خریداری کے رجحان میں بھی تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے اور شہری اپنی آمدن کے مطابق صرف انتہائی ضروری اشیاء کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث خاندانوں کے لیے روزمرہ ضروریات اور دیگر اہم مالی ذمہ داریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث متوسط طبقے کا معیارِ زندگی بھی مسلسل متاثر ہو رہا ہے، جبکہ غریب اور سفید پوش خاندانوں کے لیے صورتحال مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف آمدن میں معمولی اضافے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور مصنوعی مہنگائی و ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لیے مؤثر اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، مارکیٹوں میں قیمتوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے اور عام آدمی کو بنیادی ضروریات مناسب نرخوں پر دستیاب بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ غریب، سفید پوش اور متوسط طبقہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی سمیت دیگر بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button