پنڈدادنخان میں شادی بیاہ کی تقریبات میں "ون ڈش "کی پابندی کو ہوا میں اڑا دیا گیا

پنڈدادنخان: جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان میں شادی بیاہ کی تقریبات میں "ون ڈش "کی پابندی کو ہوا میں اڑا دیا گیا ۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف ، شادی ہالز ، ماکیز، ہوٹلوں اور پارکوں میں ہونے والی شادیوں میں ون ڈش کی پابندی کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ شادی کی تقریبات کے لئے مقررہ کردہ اوقات کار کی خلاف ورزیاں بھی عروج پر پہنچ گئیں۔

میرج ہالز میں ہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات رات 10بجے ختم ہونے کی بجائے رات دیر تک جاری وساری رہتی ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شادی آرڈیننس پر پابندی کرانے والے ذمہ داران نے شادی ہالز کی انتظامیہ سے معاملات طے کررکھے ہیں ، ذمہ داران چیکنگ کرنے کی بجائے اپنی مخصوص کارندوں کو چیکنگ کے لئے بھجواتے ہیں جو کہ مقامی ہیں ۔

جہاں شادیوں کی خلاف ورزیاں ہورہی ہوتی ہیں وہاں پر کارندے میرج ہالز مالکان کے ساتھ معاملات طے کرکے جو تصویریں گروپس میں اپلوڈ کرتے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتااور اس طرح معاملات رفعہ دفعہ کردیئے جاتے ہیں۔سب سے زیادہ خلاف ورزیاںپنڈدادنخان ، کھیوڑہ اور مضافاتی علاقوں میں ہو رہی ہیں۔ جہاں رات گئے تک شادی بیاہ کی تقریبا ت نہ صرف جاری رہتی ہیں بلکہ وہاں ون ڈش کی کھلے عام خلاف ورزیاں بھی معمول بن چکی ہے۔

شہر کی سماجی ، رفاعی ، فلاحی اور تنظیموں کے عمائدین نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری بلدیات سے مطالبہ کیاہے کہ تحصیل پنڈدادنخان میں نافذ جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے فرض شناس ایماندار افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ ون ڈش کی ہونے والی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کر سکیں ۔

Exit mobile version