جہلم: موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی شہر کی فروٹ منڈیوں اور دکانوں پر تربوز خریدنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔
” لال اے، لال اے” کی آوازوں کے ساتھ لوگ گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے تازہ تربوز خریدتے نظر آتے ہیں۔ تربوز نہ صرف ذائقے میں مزیدار ہوتا ہے، بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے بے شمار فوائد رکھتا ہے۔
گرمی کے موسم میں سب سے بڑی پریشانی ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے، اور تربوز اس مسئلے کا بہترین حل ہے۔ اس پھل میں 92 فیصد پانی ہوتا ہے، جو جسم کو مناسب مقدار میں ہائیڈریشن فراہم کرتا ہے اور کئی جسمانی مسائل سے بچاتا ہے۔ تربوز میں وٹامن سی، وٹامن اے، پوٹاشیم، وٹامن بی 1، وٹامن بی 5 اور وٹامن بی 6 جیسے غذائی اجزاء اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں، جو کہ جسم کی ضروریات کے لیے بہت مفید ہیں۔
تربوز کا پنجابی میں نام "ہدوانہ” ہے، انگریزی میں اسے "واٹر میلین” کہا جاتا ہے، عربی میں "بھیج” اور ترکی زبان میں "تاجور” کہا جاتا ہے۔ یہ پھل شکل میں گول اور لمبوترا ہوتا ہے، جب کہ رنگ میں سبز ہوتا ہے اور اس کا چھلکا سخت ہوتا ہے۔
تربوز کا استعمال انسان کو گرمی کے اثرات سے بچانے کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، تربوز کے بیج بھی بے شمار فوائد رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بیجوں میں پروٹین کے ساتھ ساتھ فاسفورس، آئرن، پوٹاشیم، سوڈیم، میگنیشیم، زنک اور دیگر اہم معدنیات پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
اس موسم میں تربوز کا استعمال نہ صرف آپ کو تازگی فراہم کرتا ہے بلکہ یہ صحت کے کئی فوائد بھی پیش کرتا ہے۔
