پنڈدادنخان: چوہدری محمد نواز نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ اختتام پذیر ہو رہا ہے، تاہم اس مقدس مہینے میں گراں فروشی کا اچانک اور بے قابو بڑھ جانا غریب، نادار اور سفید پوش طبقے کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔
جلالپور شریف کی معروف سماجی شخصیت چوہدری محمد نواز کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جس سے روزہ داروں کے خواب چکنا چور ہو کر رہ گئے ہیں۔
ان کے مطابق پوری تحصیل پنڈدادنخان میں پھل فروش اور دکاندار من مانگے دام وصول کر رہے ہیں جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس گراں فروشوں کو قابو کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری نرخناموں کو دکانداروں نے ہوا میں اڑا دیا ہے اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ کے دعوے صرف اخباری بیانات اور فوٹو سیشنز تک محدود نظر آتے ہیں۔
چوہدری محمد نواز نے کہا کہ مصنوعی گراں فروشی کے ذریعے روزہ داروں کو لوٹنے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے اور جب تک ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے انہیں جیلوں میں نہیں ڈالا جائے گا، اس وقت تک مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں۔
ان کے مطابق بازار میں گائے کا گوشت 1200 روپے فی کلو، بکرے کا گوشت 2200 روپے فی کلو، سیب 600 روپے فی کلو، کنو 400 روپے فی درجن، اسٹرابیری 700 روپے فی کلو، کھجور 1200 روپے فی کلو اور خربوزہ 400 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔
چوہدری محمد نواز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جلالپور شریف اور گردونواح میں کسی بھی متعلقہ مجسٹریٹ نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے تاحال مؤثر وزٹ نہیں کیا، جس کے باعث شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
چوہدری محمد نواز سمیت شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ چیکنگ کا پابند بنایا جائے تاکہ رمضان المبارک میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
