جہلم: ڈپٹی کمشنر جہلم میثم عباس کی زیرصدارت انسداد پولیو مہم کے انتظامات اور حفاظتی ٹیکہ جات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ صحت کے افسران، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع میں جاری حفاظتی ٹیکہ جات کے اقدامات اور آئندہ پولیو مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زاہد تنویر نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں ویکسینیٹرز نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے اعتراف میں عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے بہترین کارکردگی دکھانے والے ویکسینیٹرز کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور گفٹ باکس دیے گئے۔
ڈپٹی کمشنر نے ای پی آئی سٹاف کی محنت کو سراہا اور مستقبل میں بھی اسی محنت اور لگن سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں 21 سے 25 اپریل تک جاری رہنے والی پولیو مہم کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پولیو مہم کے دوران ضلع جہلم میں پانچ سال سے کم عمر کے 2 لاکھ 28 ہزار 908 بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 1094 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلائیں گی۔ اس کے علاوہ 74 فکسڈ ٹیمیں اسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور دیگر اہم مقامات پر تعینات کی جائیں گی جبکہ 24 ٹرانزٹ ٹیمیں بس اسٹیشنز، ریلوے اسٹیشنز اور عوامی مقامات پر خدمات انجام دیں گی۔
مہم کی موثر نگرانی کے لیے 223 ایریا انچارج اور 56 یونین کونسل مانیٹرز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے محکمہ صحت کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں لازمی ویکسین پلائیں۔ اجلاس میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں نے مہم کے دوران تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون سے کام کریں تاکہ ضلع جہلم میں 100 فیصد ہدف حاصل کیا جا سکے اور پاکستان کو جلد از جلد پولیو فری ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔
