پنڈدادنخان شہر کا سٹیڈیم عدم توجہ کے باعث زبوں حالی کا شکار

پنڈدادنخان شہر کا اکلوتے سٹیڈیم کی حالت زار، سٹیڈیم کے چاروں اطراف کئی کئی فٹ لمبی جھاڑیاں نمودار ہو گئیں۔

تفصیلات کے مطابق انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور نااہلی کے باعث پنڈدادنخان شہر میں موجود گورنمنٹ راجہ غضنفر علی خان ہائی سکول سٹیڈیم المعروف سپورٹس کمپلیکس پنڈدادنخان جنگل کا منظر پیش کر رہا ہے۔ متعدد بار انتظامیہ کی توجہ اس طرف دلوائی گئی لیکن افسوس ایک دن دکھاوے کا کام کر کے وہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پہلے ہی سٹیڈیم کو صرف بیڈمنٹن اور فٹبال کے لیے وقف کردیا گیا ہے، باقی ماندہ جگہ جس میں کرکٹ کے شوقین کھلاڑی کرکٹ کھیلتے ہیں اس کے خاص طور پر دونوں اطراف لمبی لمبی جھاڑیاں کھڑی ہیں اور مہنگائی کے مارے ہوئے معصوم بچے روزانہ کئی کئی گیندیں ان جھاڑیوں میں گھس کر ڈھونڈتے رہتے ہیں اور آخرکار تھک ہار کر نیا بال خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی کروڑوں روپے لگا کر اس سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کا کام شروع کیا گیا تھا لیکن ٹھیکیدار ادھورا کام چھوڑ کر رفو چکر ہوگیا، نامکمل واکنگ ٹریک،سٹیڈیم میں لگائی گئی لائٹس کے خالی پول جن میں ایک لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک تاریں نہیں ڈالی گئیں، سٹیڈیم میں پارکنگ کے لیے لاکھوں روپے لگا کر جگہ کو ضائع کر دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے سال میں ایک چکر تک لگانا گوارہ نہیں کرتے کیونکہ انہیں ہر ماہ معقول رقم پہنچا دی جاتی ہے۔

کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ درجنوں گیندیں ان جھاڑیوں میں موجود ہیں اور یہاں گیند ڈھونڈتے وقت کسی بھی سانپ یا بچھو وغیرہ کے کاٹنے کا خطرہ موجود رہتا ہے اور الحمد للہ اس سٹیڈیم کی دیکھ بھال کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے تین ملازم رکھے گئے ہیں جو ہر بار یقین دلاتے ہیں کہ آپ خبر نہ لگائیں کام یو جائے گا۔

ان میں سے ایک صاحب کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے، آپ جو مرضی خبر لگائیں ہمیں فرق نہیں پڑتا، ہمیں ہر ماہ بیس سے پچیس ہزار روپے تنخواہ مل جاتی ہے۔

عوامی وسماجی حلقوں سمیت سپورٹس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ڈپٹی کمشنر جہلم سمیع اللہ فاروق اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر جہلم سمیت اسسٹنٹ کمشنر پنڈدادنخان انور علی کانجو سے مطالبہ کیا ہے کہ خدارا اس گراؤنڈ کی حالت زار کو ٹھیک کیا جائے اور ان جھاڑیوں کو تلف کیا جائے تاکہ کرکٹ کے کھلاڑی بھی سکون سے اپنی گیم جاری رکھ سکیں۔

Exit mobile version