جہلم: دکانداروں کی من مانیاں عروج پر، اشیائے خوردونوش من مرضی کے نرخوں پر فروخت کی جانے لگیں

جہلم: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام، دکانداروں کی من مانیاں عروج پر، سبزیاں، پھل، دودھ، دہی،گوشت سمیت دیگر اشیائے خوردونوش من مرضی کے نرخوں پر فروخت کی جانے لگیں۔ ضلعی انتظامیہ کا جاری کردہ نرخنامہ بااثر دکانداروں نے ہوا میں اْڑا دیا ۔
ضلعی انتظامیہ کی جاری کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق دیہی ، آٹا، دال مسور، دال ماش، نان، سرخ مرچ کندری، چینی، بناسپتی، گھی کھلا،سفید چنے کے نرخ مقرر نہیں کئے جس کیوجہ سے دکاندار من مرضی کے نرخوں پر غریبوں کے استعمال ہونے والی اشیاء فروخت کررہے ہیں ۔ پنجاب حکومت کے عام آدمی کو ریلیف دینے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم کرنے کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ، عام آدمی ریلیف کیلئے عملی اقدامات کا منتظر ہے۔
رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے سونامی میں عام آدمی غوطے کھا رہا ہے، ایک طرف حکومت کی طرف سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم کرنے کے بلند و بانگ دعوے جبکہ دوسری جانب دکانداروں کی من مانیاں عروج پر ہیں ضلعی انتظامیہ اپنے ہی جاری کردہ نرخناموں پر عمل درآمد کروانے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی حکومتی دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی پرائس کنٹرول کے میکنزم پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ویڈیو لنک اجلاس میں اظہار برہمی کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بھی مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے مافیاز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہورہی ہے جس سے عام آدمی کو ریلیف ملنا انتہائی دشوار گزار نظر آتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کی طرف سے جو سرکاری نرخنامے جاری ہوتے ہیں وہ کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ مارکیٹ میں دکاندار سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کرنے کی بجائے اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں اور اشیاء میں بھی ایک ، دو اور تین نمبر متعارف کروا دیئے جاتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری نرخنامے کے مطابق قیمت وصول کیے جانے کے لیے استفسار کیا جائے تو انتہائی ناقص گندی اشیاء تھما دی جاتی ہیں اگر کوئی صارف صاف ستھری اشیاء سرکاری نرخ نامے کے مطابق طلب کرے تو نوبت لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ تک آن پہنچتی ہے جس کا سارا نقصان صارف کو دکاندار کی مرضی کے مطابق چیز خرید کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو پرائس کنٹرول کے حوالے سے عملی طور پر ٹھوس میکینیزم تیار کر کے لاگو کرنا ہوگا اور جو افسران بھی اس حوالے سے غفلت اور نا اہلی کے مرتکب پائے جائیں اْن کو مثالی سزائیں دی جائیں جبکہ دکانداروں کو بھی سختی سے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کے لیے پابند کیا جائے اور کوئی خلاف ورزی کرے تو اس کو بھی مثالی سزائیں دی جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے اورمہنگائی کنٹرول کی جا سکے۔



