پنڈدادنخان کے نیشنل بینک کی نئی عمارت کی تعمیر میں عدم دلچسپی، سول سوسائٹی تشویش میں مبتلا

پنڈدادنخان: پرانے لاری اڈے سے خستہ حال نیشنل بینک کو گرا کر نئی عمارت کی تعمیر میں عدم دلچسپی، نیشنل بینک حکام کو دہرا خسارہ، بینک کے مقامی اور قریبی تاجر صارفین بھی خوار ہو گئے۔ عمارت کی تعمیر میں تاخیری حربوں میں خفیہ مافیا کے ملوث ہونے کے امکانات، ان گردش کرتی خبروں کے بعد انجمن تاجران سمیت تاجر ورکنگ کمیٹی کے چیئرمین علمدار حسین، صدر ارشد محمود و دیگر عہدیداران نے حکام سے بینک کو فوری تعمیر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے نیشنل بینک حکام نے خستہ حال عمارت کو گرا کر بینک کو نئے اڈے پر منتقل کر دیا جس کی بنا پر بازار کے پرانے کھاتہ داروں کے بینک سے تجارتی لین دین میں شدید رکاوٹوں سے ان کے کاروبار متاثر ہونے لگے۔

سرکار کو بھی اس بینک کی سرگرمیاں جاری رکھنے پر دہرے کرایوں کی مد میں بھاری نقصان جو کہ پرانی جگہ پر بھی کرایہ دار ہیں اور نیسپاک کو پانچ کروڑ کا ٹھیکہ سپرد کر کے اس کی عدم تعمیر پر خاموش بھی ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق اس جگہ پر بینک کی عمارت میں تاخیری حربوں میں کوئی خفیہ مگر طاقتور مافیا سرگرم ہے جو اس جگہ پر بڑی مارکیٹ بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے تاہم پنڈدادنخان کی تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے انہیں سخت مزاہمت کا سامنا ہے۔ تاجروں کی متحدہ و متفقہ کوشش ہے کہ بینک کی عمارت کو پرانی جگہ پر ہی فوری تعمیر کروایا جائے۔

اس سلسلہ میں انہوں نے میڈیا کے توسط سے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز، نیشنل بینک کے ڈائریکٹر سمیت ڈپٹی کمشنر جہلم اور اسسٹنٹ کمشنر پنڈدادنخان سے اس معاملے کا نوٹس لے کر تاخیری حربوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور اس عمارت کی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔

Exit mobile version