الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں دوسری نیشنل کانفرنس ’’ہیلنگ دی ہیلرز‘‘ کا انعقاد

اسلام آباد: الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام موون پک ہوٹل اسلام آباد میں شعبہ صحت سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود، ذہنی و روحانی بالیدگی اور موجودہ دور کے درپیش چیلنجز کے حل کے لیے دوسری ملک گیر کانفرنس ’’ہیلنگ دی ہیلرز‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس میں ملک بھر سے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، طبی ماہرین، اساتذہ اور مختلف نمائندہ تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی۔

کانفرنس کا بنیادی مقصد طبی شعبے سے وابستہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو درپیش ذہنی دباؤ اور پیشہ ورانہ مشکلات کو کم کرنے، ان کی اخلاقی و روحانی استقامت کو مضبوط بنانے اور طبی شعبے کے لیے ایک جامع و مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا تھا۔

کانفرنس میں شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و پیٹرن اِن چیف الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے خصوصی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ طبی ماہرین کو صرف اپنے شعبے کا ماہر ہونے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں معاشرے کی روحانی اور جسمانی صحت کے نگہبان کا کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اپنے فرائض ایک باپ، بھائی اور شہری کی حیثیت سے بھی ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے الفلاح فاؤنڈیشن کے رضاکار ڈاکٹرز کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈاکٹرز بغیر کسی مالی معاونت کے دینی و قومی جذبے کے تحت قوم کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور خدمت و ایثار کی عملی مثال ہیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ معاشرے کے مسائل کی بنیادی وجوہات میں دینی اقدار سے دوری بھی شامل ہے۔ ڈاکٹرز کی اپنی روحانی اصلاح ان کی پیشہ ورانہ پریکٹس اور مریضوں کی دیکھ بھال پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے میڈیکل پریکٹیشنرز پر زور دیا کہ جس طرح وہ اپنی طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کو پوری زندگی اہمیت دیتے ہیں، اسی طرح اپنے دل اور باطن کی اصلاح کو بھی ترجیح دیں تاکہ معاشرے میں حقیقی شفایابی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ’’صحت مند معالجین‘‘ کا منصوبہ صرف ایک تقریب تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پاکستان کے سرکاری شعبۂ صحت میں قومی پالیسی کے طور پر منظور کیا جانا چاہیے۔

کانفرنس کے ایجنڈے اور سائنسی سیشنز کے تحت مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی مباحث، سیشنز اور ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا گیا۔ Conflict Management & Difficult Conversations کے عنوان سے ہونے والی ورکشاپ میں ڈاکٹر نبیل عباد ہیڈ آف سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ ایس زیڈ پی جی ایم آئی لاہور اور ڈاکٹر عظیم راؤ ایسوسی ایٹ پروفیسر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی نے ڈاکٹرز اور مریضوں کے درمیان پیدا ہونے والے تلخ مکالمات اور تنازعات کے بہتر حل کے حوالے سے گفتگو کی۔

برن آؤٹ اور طبی تحفظ کے موضوع پر بریگیڈیئر ڈاکٹر راشد قیوم سربراہ شعبہ سائیکاٹری پی اے ایف ہسپتال اسلام آباد نے مریضوں اور ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کے تحفظ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر شہزاد علی خان وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد نے ڈاکٹرز کے لیے باہمی معاونت اور مؤثر سپورٹ سسٹم کی اہمیت پر زور دیا۔

میڈیکل پریکٹیشنرز کے قانونی تحفظ کے موضوع پر کرنل شبیر حسین اور ڈاکٹر صائمہ زبیر نے طبی عملے کو درپیش قانونی چیلنجز، شکایات کے ازالے اور ہسپتالوں میں تشدد کی روک تھام کے طریقۂ کار سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

خواتین ڈاکٹرز کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ڈاکٹر صبا شجاع یونیسیف پاکستان اور پروفیسر شگفتہ سیال نے شعبہ صحت میں خواتین کی قیادت، کیریئر گائیڈنس اور محفوظ پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔

پروفیسر مودت حسین رانا پروفیسر آف سائیکاٹری نے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو درپیش ذہنی اور جذباتی تناؤ کے موضوع پر جامع خطاب کیا۔ اس کے بعد خصوصی پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ادارہ جاتی تبدیلیوں اور عملی اقدامات کے حوالے سے مختلف امور پر غور کیا گیا۔

ڈاکٹر عرفان نے بھی شرکاء کے سامنے متعلقہ موضوعات سے جڑے اہم سوالات پیش کیے، جن کے جوابات شعبہ صحت سے وابستہ ماہرین نے دیے۔

کانفرنس کی اختتامی نشست میں ’’اسلام آباد ڈیکلریشن‘‘ کے حوالے سے الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کا تعارف ڈاکٹر میر رضوان احمد، صدر الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان، نے پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر سکندر حیات نے ’’اسلام آباد ڈیکلریشن‘‘ پیش کیا۔

تقریب میں وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے الفلاح فاؤنڈیشن کی اس کوشش کو سراہا۔ انہوں نے اسلام آباد ڈیکلریشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

کانفرنس کے اختتام پر نامور ڈاکٹرز، اساتذہ اور مختلف نمائندہ تنظیموں، جن میں PMA، PPA، PAF YDA اور MIND Organization شامل ہیں، کے عہدیداران میں امیر عبدالقدیر اعوان کے دستِ مبارک سے شیلڈز اور یادگاری سووینئرز تقسیم کیے گئے۔

شرکاء نے اسلام آباد ڈیکلریشن کے تحت اس امر پر زور دیا کہ ’’Heal the Healers‘‘ محض ایک علامتی نعرہ نہیں بلکہ صحت کے نظام کی بقا، وقار اور بہتری کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں Healingthehealers.pk کے نام سے ایک پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد ڈاکٹر کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کام کرنا ہے۔

اسلام آباد ڈیکلریشن کے تحت اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ جو معاشرہ اپنی میڈیکل پریکٹیشنر کمیونٹی سے ہمدردی، معیاری علاج اور بہتری کی توقع رکھتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ طبی ماہرین کو محفوظ اور باعزت ماحول، جذباتی معاونت، قانونی تحفظ اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اسلام آباد ڈیکلریشن کو وفاقی حکومت پاکستان، صوبائی حکومتوں، صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں، پیشہ ورانہ تنظیموں، ریگولیٹری حکام، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ ذمہ داران کے غور و فکر، منظوری اور عملدرآمد کے لیے پیش کیا گیا۔

کانفرنس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، امن، خوشحالی اور طبی شعبے سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Exit mobile version